نام لیکربتاؤں کا کہ کون کون پرتگال میں جائیدادیں خرید رہا ہے؟ خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بیوروکریسی کے احتساب کے حوالے سے سخت تنقید کی اور کہا کہ پچھلے 78 سال میں اس طبقے کا کوئی احتساب نہیں کیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی نے کبھی سوچا ہے کہ بیوروکریٹس کے پاس کتنے پلاٹ ہیں؟
پرتگال میں جائیدادوں کی خریداری کے معاملے پر بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ان کے لیے یہ بات نئی نہیں تھی، اور نہ ہی انہیں اس بات کا اندازہ تھا کہ اس معاملے پر اتنا شور مچے گا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ اب جب رولا پڑ چکا ہے، تو میں انکوائری بھی کر رہا ہوں اور میں ان کے نام بھی بتاؤں گا جو وہاں جائیدادیں خرید رہے ہیں۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ پرتگالمیں جائیدادیں خریدنے والے افراد کے بارے میں تحقیقات کی جا رہی ہیں اور اس سلسلے میں جس شخص نے جائیدادیں خریدنے کا انتظام کیا، اُس نے ان کی تصاویر بھی لی ہوئی ہیں۔ وزیر دفاع نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرے تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔
اپنی ذاتی رہائش کے بارے میں بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ ان کے پاس 2 کمروں کا فلیٹ ہے، جس میں وہ پچھلے 25 سال سے رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس سرکاری گاڑی نہیں ہے اور نہ ہی کوئی “بابو” (سرکاری افسر) ان کے محلے میں رہتا ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بیوروکریسی کو وہ تمام قوانین اور قاعدے اختیار کرنا چاہئیں جو پارلیمنٹیرینز پر لاگو ہوتے ہیں، تاکہ عوام کے ساتھ شفافیت اور انصاف قائم ہو سکے۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ انہیں پتا چلا کہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو (اے ڈی سی آر) سیالکوٹ کو کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کی شکایت پر گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اینٹی کرپشن اس معاملے کی تحقیقات کر رہا ہے اور ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر شکایت درست ہوئی تو متعلقہ افسر کو سزا ملے گی، اور اگر شکایت غلط ثابت ہوئی تو جس نے شکایت کی، اسے سزا ملے گی۔
خواجہ آصف نے اپنی استعفیٰ دینے کی خبروں کی تردید کی اور کہا کہ وہ حکومت کے ساتھ ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے مشاورتی عمل کا حصہ ہیں۔
خواجہ آصف نے ضمنی انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان انتخابات کی تیاریوں کے بارے میں مری میں مشاورت کی گئی تھی اور نواز شریف کی قیادت میںحتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) میں فیصلے نواز شریف ہی کریں گے کیونکہ وہ میرا قائد اور لیڈر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کی قیادت میں مسلم لیگ (ن) کی آئندہ قیادت پر انہیں پورا یقین ہے، اور وہ اپنی بیٹی کے لیے جتنی دعائیں کرتے ہیں، اتنی ہی دعائیں وہ مریم نواز کے لیے بھی کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: خواجہ ا صف نے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
گلگت (نوائے وقت رپورٹ) مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے جہاں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا۔ انہوں نے گلگت تک موٹر وے بنانے‘ ائرپورٹ کی توسیع اور الیکٹرک بسیں چلانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، پوچھنا چاہتا ہوں گلگت کو نظرانداز کیوں کیا گیا۔ ٹوٹی سڑکیں دیکھ کر دکھ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان میں شروع ہونے والے نئے منصوبوں کی خود نگرانی کروں گا، ووٹ دیں یا نہیں، یہاں کے مسائل کے حل کے لیے شہباز شریف سے بات کروں گا۔ طلبہ کو سکالرشپس دی جائیں گی، مزید لیپ ٹاپ دیے جائیں گے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی پر تنقید کر کے کسی کی برائی کر کے ووٹ نہیں مانگتا ہم اپنی کارکردگی کی بنا پر ووٹ مانگتے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ یہاں 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے، یہ ہمیں منظور نہیں ہے، کسی اور کو منظور ہو تو ہو، یہ مجھے منظور نہیں ہے، میں جاکر شہباز شریف سے بات کروں گا، انہوں نے کہا کہ مجھے آپ نے کئی دفعہ دیس نکالا کیا ہے، مجھ سے گلہ نہیں کرو، یہ گلہ میں سننے کو تیار نہیں ہوں، یہ قصور آپ کا بھی ہے کہ مجھ جیسے بندے کو دیس نکالا کیوں ہونے دیا۔ نواز شریف نے کہا کہ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا، کیوں مجھے دیس چھوڑ کر جانا پڑا، یہ بھی سوچنے والی ہے، میں اس پر بات نہیں کرنا چاہتا لیکن یہ بھی حقیقت ہے، ہم تمام سٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر اس مسئلے کو حل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمارے علاوہ کسی جماعت نے ادھر کام نہیں کیا، یہاں کی سڑکوں کا حال دیکھ کر بہت دکھ ہوتا ہے۔ میں کسی جماعت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، لیکن پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیوں چیزوں کونظر انداز کیا۔ میرا دل روتا ہے کہ آپ لوگوں کی سہولتوں کے لیے کیوں پیسا نہیں لگایاگیا، وہ پیسا کہاں گیا؟ یہاں ہسپتال بنایا تو ہم نے بنایا، ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، نگر کا منصوبہ ہم نے مکمل کیا، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے کوئی کام کیا ہو۔