جسٹس سرفراز ڈوگر اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینیئر ترین جج ڈیکلیئر
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
اسلام آباد:
ٹرانسفر ججز کیس میں بڑی پیش رفت سامنے آگئی، صدر مملکت نے جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا سینیئر ترین جج ڈیکلیئر کر دیا۔
صدر مملکت نے جسٹس سرفراز ڈوگر سمیت دیگر 2 ججز کی ٹرانسفر بھی مستقل قرار دے دی۔
سپریم کورٹ نے ہائیکورٹ ججز کی سینیارٹی کے تعین کا معاملہ صدر مملکت کو بھیجا تھا۔ صدر مملکت نے تعین کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سینیارٹی لسٹ جاری کر دی۔
سینیارٹی لسٹ کے مطابق ٹرانسفر ہونے والے جسٹس سرفراز ڈوگر سینیئر ترین جج ہوں گے۔ جسٹس خادم حسین سومرو 9 ویں نمبر پر جبکہ جسٹس آصف 11 ویں نمبر کے جج ہوں گے۔
ججز کی سینیارٹی کے تعین اور عارضی یا مستقل ٹرانسفر کا معاملہ صدر مملکت کو بھیجا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججز نے گزشتہ روز سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی تھی۔
گزٹ نوٹیفکیشن 27 جون 2025 کو جاری کیا گیا تھا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز نے 28 جون کو فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی تھی جبکہ ججز کی سنیارٹی کا معاملہ ایک روز قبل 27 جون کو ہی گزٹ نوٹیفکیشن کی صورت میں طے ہوچکا تھا۔
یکم جولائی کو جوڈیشل کمیشن اجلاس میں مستقل چیف جسٹس ہائیکورٹس تعیناتی زیر غور آئے گی۔ سندھ، پشاور اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے لیے مستقل چیف جسٹس کی تعیناتی ہوگی۔ ہر ہائیکورٹ کے تین سینیئر ترین ججز میں سے ایک کو چیف جسٹس تعینات کیا جائے گا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ سے جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے نام زیر غور ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر صدر مملکت ججز کی
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔