تحریک انصاف اراکین اسمبلی سیاسی جماعتوں کے ریڈار پر پیپلز پارٹی، ن لیگ اور جمعیت علمائے اسلام ف ارکان کو ساتھ ملانے کی کوششیں تیز کر دیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
سپریم کورٹ کے مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کیلئے مسائل بڑھنے لگے
مخصوص نشستوں سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی ارکان کیلئے مسائل بڑھنے لگے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی ارکان سیاسی جماعتوں کے ریڈار پر آگئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور جمعیت علمائے اسلام ف ارکان کو ساتھ ملانے کی کوششیں تیز کر دیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے مخصوص نشستوں سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا اور عدالت عظمیٰ کا گزشتہ سال 12 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بحال کیا۔فیصلے کے بعد سنی اتحاد کونسل پاکستان تحریک انصاف مخصوص نشستیں سے محروم ہوگئی۔ اس کے کوٹے کی نشستیں مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت قومی اسمبلی میں موجود دیگر جماعتوں کو ملیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔