جبری زیادتی اور گینگ ریپ کیسز میں راضی نامہ جرم قرار، گرفتار کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 22nd, September 2025 GMT
راولپنڈی:
جبری زیادتی اور گینگ ریپ کیسز میں راضی نامہ جرم قرار دیتے ہوئے عدالت نے راضی نامہ کرانے والوں کو گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افشاں اعجاز صوفی نے جبری زیادتی اور گینگ ریپ سے متعلق کیسز میں بڑا فیصلہ جاری کردیا، جس میں حکم دیا گیا ہے کہ بچوں اور خواتین سے جبری زیادتی ناقابل راضی نامہ جرم ہے اور اس نوعیت کے مقدمات میں راضی نامہ کرنے والے مدعی اور گواہان بھی جرم کے مرتکب ہیں۔
عدالت نے راولپنڈی کے 19 مقدمات میں راضی نامے سے منحرف ہونے والے تمام مدعی اور گواہوں کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے۔ ان کیسز میں راضی کرنے والوں میں 10 خواتین اور 9 مرد مدعی شامل ہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ معصوم بچوں اور بچیوں سے زیادتی کرنے والے ملزمان کو راضی نامے کے ذریعے بری نہیں کیا جا سکتا۔
سٹی پولیس آفیسر خالد ہمدانی نے تھانوں کے ایس ایچ اوز کو فوری طور پر عدالتی حکم پر عمل درآمد کی ہدایت کر دی ہے۔ عدالت نے جھوٹے مقدمات درج کرانے والی خواتین کے خلاف بھی کارروائی کا حکم جاری کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جبری زیادتی کیسز میں عدالت نے کا حکم
پڑھیں:
اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں،جسٹس اشتیاق ابراہیم اے این ایف پر برہم
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ کی درخواست ضمانت پرسماعت ہوئی،جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،ملزمہ کے وکیل نے عدالت کے رو برو اے این ایف ریڈکی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی،عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دیدیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وکیل نے کہاکہ واضح دیکھا جا سکتا ہے اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آیا، خودمنشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایاگیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کردی،جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہاکہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آ رہے ہیں،وکیل اے این ایف نے کہاکہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کئے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہاکہ اے این ایف کے 10اہلکار تھے مگر 2لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں؟ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی،وکیل احسن بھون نے کہاکہ گارڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیاگیا ہے،
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں ،خداکا خوف کریں، کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں،اے این ایف کیا کررہا ہے ، ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیئے جاتے ہیں،ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کیساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ جوانی ہمیشہ نہیں رہتی، کچھ خیال کیا کریں۔سپریم کورٹ نے 5لاکھ روپے مچلکوں کے عوض ملزمہ کی ضمانت منظورکرلی۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
مزید :