جسٹس طارق محمود ڈگری کیس‘ درخواستگزاروں کا احتجاج‘ واک آؤٹ
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
250926-08-6
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت غیر معمولی صورتحال اختیار کرگئی، وکلا درخواست گزاروں کی جانب سے بطور احتجاج واک آؤٹ کیا گیا جس پر عدالت نے تمام درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردیں،جسٹس طارق محمود نے جذباتی انداز میں کہا کہ پہلی بار ہائیکورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنے حلف سے وفاداری نبھائی، کبھی کسی دباؤ پر فیصلے نہیں دیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری روسٹرم پر آئے اور کہا کہ انہوں نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے کیونکہ وہ متاثرہ فریق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں جامعہ کراچی کی جانب سے کبھی کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ دیکھا جائے گا۔ وقفے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ، کراچی بار اور دیگر کے وکلا نے بینچ پر اعتراض اٹھایا۔ سماعت کے دوران جسٹس طارق محمود جہانگیری نے روسٹرم پر بولنے کی کوشش کی تو جامعہ کراچی کے وکیل سرمد ہانی نے اعتراض کیا جس پر کمرہ عدالت میں وکلا نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ یہاں 2 ججز کا معاملہ اسٹیک پر ہے، وکیل درخواست گزار فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی بینچ کے دائرہ اختیار پر تحریری اعتراض پہلے ہی جمع کرایا جاچکا ہے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے جذباتی انداز میں کہا کہ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنے حلف سے وفاداری نبھائی، کبھی کسی دباؤ پر فیصلے نہیں دیے۔ انہوں نے کہا کہ میری ڈگری اصلی ہے، امتحان میں خود شریک ہوا تھا لیکن 34 برس بعد جعل سازی سے ڈگری کو متنازع بنا دیا گیا۔ میرے خلاف کرپشن کا الزام نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھلے میرے خلاف فیصلہ دے دیں مگر مجھے سنے جانے کا موقع دیا جائے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے بیان پر کمرہ عدالت میں وکلا نے تالیاں اور ڈیسک بجائیں۔ عدالت نے کہا کہ پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جس پر تمام درخواست گزار وکلا کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے اور کمرہ عدالت کے باہر نعرے بازی کی۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کیے تاہم ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مہلت کی استدعا کی۔ عدالت نے درخواست گزار وکلا وکلا کی جانب سے عدم پیروی کی بنیاد پر تمام درخواستیں خارج کردیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جسٹس طارق محمود جہانگیری کمرہ عدالت نے کہا کہ عدالت نے
پڑھیں:
’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
معروف بھارتی گلوکار سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے میڈیا نمائندوں سے کہا کہ اس معاملے پر ان سے مزید سوال نہ کیے جائیں۔
سونو نگم سے ایک حالیہ میڈیا گفتگو کے دوران مبینہ نیٹ پرچہ لیک اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبے پر جاری احتجاج کے حوالے سے سوال کیا گیا، تاہم انہوں نے اس موضوع پر اپنی رائے دینے سے گریز کیا۔
رپورٹرز کی جانب سے مسلسل سوالات کیے جانے پر سونو نگم نے واضح کیا کہ وہ اس معاملے پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ بار بار سوالات کیے جانے پر وہ کچھ برہم دکھائی دیے اور مختصراً کہا، ’’ابھی ہو گیا، بس۔‘‘ اس جملے کے ذریعے انہوں نے اشارہ دیا کہ وہ اس موضوع پر مزید گفتگو نہیں کرنا چاہتے۔
رپورٹس کے مطابق، یہ میڈیا گفتگو کہاں اور کس موقع پر ہوئی، اس حوالے سے کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
View this post on Instagram
نیٹ احتجاج پر متعدد شوبز شخصیات کا ردِعمل
سونو نگم کی خاموشی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارتی فلم انڈسٹری کی کئی معروف شخصیات نیٹ احتجاج پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی ہیں۔
اداکار سلمان خان، عالیہ بھٹ، دُلکر سلمان، وجے ورما، نصیرالدین شاہ، انوپم کھیر، ہیما مالنی، پریتی زنٹا اور عمران خان سمیت متعدد فنکار اس معاملے پر مختلف رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بعض نے طلبہ کی حمایت کرتے ہوئے مذاکرات اور تعلیمی اصلاحات کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے مختلف مؤقف اختیار کیا۔
واضح رہے کہ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک کے بعد ملک بھر میں طلبہ کی جانب سے احتجاج جاری ہے۔ مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی اور احتساب کا مطالبہ کر رہے ہیں۔