data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

250926-08-6

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت غیر معمولی صورتحال اختیار کرگئی، وکلا درخواست گزاروں کی جانب سے بطور احتجاج واک آؤٹ کیا گیا جس پر عدالت نے تمام درخواستیں عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کردیں،جسٹس طارق محمود نے جذباتی انداز میں کہا کہ پہلی بار ہائیکورٹ کا جج ملزم کی طرح کٹہرے میں کھڑا ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنے حلف سے وفاداری نبھائی، کبھی کسی دباؤ پر فیصلے نہیں دیے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس طارق محمود جہانگیری روسٹرم پر آئے اور کہا کہ انہوں نے اس کیس میں فریق بننے کی درخواست دائر کی ہے کیونکہ وہ متاثرہ فریق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں جامعہ کراچی کی جانب سے کبھی کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا۔ جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ دیکھا جائے گا۔ وقفے کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ، کراچی بار اور دیگر کے وکلا نے بینچ پر اعتراض اٹھایا۔ سماعت کے دوران جسٹس طارق محمود جہانگیری نے روسٹرم پر بولنے کی کوشش کی تو جامعہ کراچی کے وکیل سرمد ہانی نے اعتراض کیا جس پر کمرہ عدالت میں وکلا نے شیم شیم کے نعرے لگائے۔ جسٹس عدنان الکریم میمن نے کہا کہ یہاں 2 ججز کا معاملہ اسٹیک پر ہے، وکیل درخواست گزار فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ آئینی بینچ کے دائرہ اختیار پر تحریری اعتراض پہلے ہی جمع کرایا جاچکا ہے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری نے جذباتی انداز میں کہا کہ میرا جرم یہ ہے کہ میں نے اپنے حلف سے وفاداری نبھائی، کبھی کسی دباؤ پر فیصلے نہیں دیے۔ انہوں نے کہا کہ میری ڈگری اصلی ہے، امتحان میں خود شریک ہوا تھا لیکن 34 برس بعد جعل سازی سے ڈگری کو متنازع بنا دیا گیا۔ میرے خلاف کرپشن کا الزام نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھلے میرے خلاف فیصلہ دے دیں مگر مجھے سنے جانے کا موقع دیا جائے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری کے بیان پر کمرہ عدالت میں وکلا نے تالیاں اور ڈیسک بجائیں۔ عدالت نے کہا کہ پہلے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا جس پر تمام درخواست گزار وکلا کمرہ عدالت چھوڑ کر چلے گئے اور کمرہ عدالت کے باہر نعرے بازی کی۔ عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل طلب کیے تاہم ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مہلت کی استدعا کی۔ عدالت نے درخواست گزار وکلا وکلا کی جانب سے عدم پیروی کی بنیاد پر تمام درخواستیں خارج کردیں۔

اسٹاف رپورٹر گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جسٹس طارق محمود جہانگیری کمرہ عدالت نے کہا کہ عدالت نے

پڑھیں:

5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس

متعلقہ مضامین

  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت