پٹوار خانوں میں خالی نشستوں پر بھرتیوں کا کیس: ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے طریقہ کار جمع کرانے کیلئے وقت مانگ لیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے پٹوار خانوں میں خالی نشستوں پر بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے بھرتیوں کا مجوزہ طریقہ کار جمع کرانے کے لیے وقت مانگ لیا۔
پٹوار خانوں میں پرائیویٹ لوگوں کے کام کی تفتیش کے لیے مقرر افسر اے سی انڈسٹریل ایریا عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے اسسٹنٹ کمشنر سے اسٹیٹ کونسل کی رپورٹ سے متعلق استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے رپورٹ دیکھی ہے جو اسٹیٹ کونسل نے جمع کروائی ہے؟ جس پر اسسٹنٹ کمشنر انڈسٹریل ایریا نے بتایا کہ میں نے ابھی وہ رپورٹ نہیں دیکھی۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا ہے کہ پورا ریونیو ڈیپارٹمنٹ اس میں شامل ہے اور اسلام آباد میں بلدیاتی حکومت بھی موجود نہیں ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے کہا کہ کچھ وقت دیا جائے، ہم تعیناتیاں کر دیں گے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پٹوار سرکلز میں سرکاری افسر تعینات کرنے ہیں تاکہ عوام کو سہولت ملے، عوام پٹوار خانوں میں بیٹھے پرائیویٹ لوگوں کو رشوت دے رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کوٹے سے متعلق سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے موجود ہیں، رولز الگ اور عدالتی فیصلے الگ ہیں۔ رولز میں ترمیم کرنی پڑے گی۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ آئینی ترمیم بھی کرنا پڑے گی۔ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ 27ویں ترمیم آ جائے گی، بغیر پڑھے لکھے اور بغیر کوالیفکیشن کے لوگ کام کر رہے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد ایاز شوکت نے کہا کہ اگر پٹواری نہ بچے تو کام رک جائے گا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کوئی شخص کسی پوزیشن کے لیے ناگزیر نہیں ہے، پاکستان 25 کروڑ کا ملک ہے، لوگ ریٹائر بھی ہوتے ہیں، فوت اور ڈسمس بھی ہوتے ہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ کچھ وقت دیا جائے، تعیناتیوں تک نظام چلانا ہے، جس پر عدالت نے کیس کی سماعت 17 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے پٹوار خانوں میں ایڈووکیٹ جنرل اسلام ا باد نے کہا کہ
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔