اوگرا کا گھریلو صارفین پر بوجھ، فکسڈ گیس چارجز میں 50 فیصد تک اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, June 2025 GMT
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے گیس کے گھریلو صارفین کے لیے ماہانہ فکسڈ چارجز میں اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے ہوگا۔
اوگرا سے جاری نوٹیفکیشن کے تحت پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین کے فکسڈ چارجز میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ چارجز 400 روپے سے بڑھا کر 600 روپے کر دیے گئے ہیں۔ تاہم اوگرا نے واضح کیا ہے کہ اس اضافے کا اطلاق صرف ماہانہ فکسڈ چارجز تک محدود ہے، گھریلو صارفین کے لیے گیس کے نرخوں میں عمومی تبدیلی نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں اسلام آباد سمیت پنجاب اور خیبر پختونخوا کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری
دوسری جانب نان پروٹیکٹڈ گھریلو صارفین پر اضافی مالی بوجھ ڈالا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وہ صارفین جو ماہانہ 1.
اس کے علاوہ ایسے نان پروٹیکٹڈ صارفین جو 1.5 ایچ ایم سے زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں، ان کے چارجز 2000 سے بڑھا کر 3000 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
اوگرا کے مطابق بلک صارفین، پاور سیکٹر اور صنعتوں کے لیے بھی گیس نرخوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جب کہ تندور، کمرشل، کیپٹو پاور، سی این جی، سیمنٹ اور کھاد کے شعبے کے لیے گیس کی قیمتیں برقرار رکھی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں حکومت کا کمرشل اور گھریلوں صارفین کے لیے گیس کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان
یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب مہنگائی کی لہر پہلے ہی عام شہریوں کی قوتِ خرید کو متاثر کر چکی ہے، اور توانائی کے شعبے میں ایسے فیصلے مستقبل میں مزید دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اوگرا فکسڈ چارجز قیمت میں اضافہ گیس کی قیمت وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اوگرا فکسڈ چارجز قیمت میں اضافہ گیس کی قیمت وی نیوز گھریلو صارفین فکسڈ چارجز کے لیے گیس صارفین کے گیا ہے گیس کی
پڑھیں:
بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے مجموعی بلوں میں کمی ہوئی ہے تاہم یہ درست ہے کہ فکسڈ چارجز دوگنا ہو گئے ہیں۔ سبسڈی ملتی رہی تو بجلی کی قیمت میں 5 سے 6 روپے فی یونٹ کمی کرتا رہوں گا۔ آنے والے دنوں میں دوپہر کے وقت شمسی توانائی سے کم نرخوں پر بجلی فروخت کی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ جب مفتاح اسماعیل خود وزیر تھے تو 18 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے تھے، ہم صرف 9 ہزار میگاواٹ خریدنے جا رہے ہیں، جس کی تفصیلات موجود ہیں۔ مجھے نہیں معلوم مفتاح اسماعیل کے پاس 26000 میگاواٹ کا اعداد و شمار کہاں سے آیا۔ اس اعداد و شمار میں نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے، جس پر کوئی صلاحیت کی ادائیگی نہیں کی جا رہی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ جولائی 2025 سے اب تک بجلی کی کھپت میں 8 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے جب کہ گزشتہ 9 سے 10 ماہ میں بجلی کی کھپت میں تقریباً 7 سے 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بجلی کی کھپت بڑھ گئی ہے جو نیپرا کی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ جب میں وزارت میں آیا تو اس میں سے 9 ہزار میگاواٹ لی۔ بقیہ 9000 میگاواٹ بجلی داسو اور بھاشا سے خریدی جائے گی۔ اس 9,000 میگاواٹ میں 1,200 میگاواٹ کا ایٹمی پلانٹ بھی شامل ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق میں نے پاور ڈویژن کے اخراجات آدھے اور ڈسکوز کے نقصانات کو کم کیا ہے۔ اس سال ڈسکوز کے نقصانات کو 586 ارب روپے سے کم کر کے 300 ارب روپے کر دوں گا۔ میں نے ٹیکس دہندگان کا پیسہ آدھا کر دیا ہے جو ہمارے فضول خرچیوں پر استعمال ہو رہا تھا۔ اگر سبسڈی جاری رہی تو بجلی کی قیمت میں 4، 5 سے 6 روپے کمی کرتا رہوں گا، میں نے ٹیکس دہندگان کے 600 ارب روپے بچائے ہیں۔
مزید پڑھیں۔روس کے کیف سمیت مختلف یوکرینی شہروں پر شدید حملے، 18 افراد ہلاک، 100 سے زائد زخمی