data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور( نمائندہ جسارت ) نائب امیر جماعت اسلامی، سیکرٹری جنرل ملی یکجہتی کونسل لیاقت بلوچ نے منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ کے شرکاء سے خطاب کیا، لاہور میں علماء کرام کے وفد سے ملاقات کی اور نوجوانوں کے نمائندہ وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں فلسطینی ماہِ رمضان، عیدالاضحٰی اور محرم الحرام میں مسلسل کربلا جیسی آزمائش اور مصائب سے دوچار ہیں، غزہ میں اسرائیلی فوجیوں نے نہتے فلسطینیوں کی ٹارگٹ کلنگ کی ہے، یہ اعتراف اب خود اسرائیلی فوجی برملا اس انکشاف کیساتھ کررہے ہیں کہ اُنہیں اسرائیلی جنگی کابینہ نے نہتے اور امداد کے منتظر فلسطینیوں کو ٹارگٹ کرکے قتل کرنے کا حکم دیا۔اسرائیلی فوجیوں کے اس برملا اعتراف کے بعد اب نیتن یاہو سمیت پوری اسرائیلی جنگی کابینہ کو فلسطینیوں کی نسل کشی کے جرم میں گرفتار کرانا اور سزا دِلانا عالمی برادری پر فرض ہوگیا ہے۔ اسرائیل صدی کا سب سے بڑا جنگی مجرم اور امریکہ صیہونی جنگی جرائم کا سرپرست ہے۔اسرائیل نے غزہ میں صرف بستیاں، عمارتیں، ہسپتال، سکولز، پناہ گزین کیمپ ہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی تمام بنیادیں ہی مسمار کردی ہیں.

غزہ میں فوری جنگ بندی کی جائے اور امریکہ، اسرائیل، یورپی ممالک فلسطینیوں کی نسل کُشی اور تباہی کا تاوان ادا کریں۔پاکستان، ایران کی فتح اور غزہ کے پُرعزم فلسطینیوں کی کامیابیوں کا تقاضا ہے کہ عالمِ اسلام اہلِ کفر کے خلاف متحد ہوجائے۔شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کا پوری اُمت اور عالمِ اسلام کی قیادت کو حقیقی پیغام یہی ہے کہ مِلّتِ اسلامیہ اتحاد کی طاقت سے باطل اور اسلام دشمن قوتوں کی جارحیت روکے۔ لیاقت بلوچ اور مِلی یکجہتی کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرلز اسد عباس نقوی، سید اُسامہ بخاری، ڈاکٹر عبدالرحمن، زاھد اخوندزادہ، ولی اللہ بخاری، عبدالوحید روپڑی، وحید شاہ، کاشف گلزار نعیمی، نذیر احمد جنجوعہ، عقیل انجم قادری اور ڈاکٹر میر آصف اکبر نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ماہِ محرم الحرام اہلِ اسلام کے تمام مسالک کے لیے احترام اور تقدس کے ایّام ہیں۔میدانِ کربلا کا معرکہ سیّدنا حسین (رض) اور لعین یزید کے درمیان معرکہ نہیں بلکہ حق و باطل کے درمیان جنگ تھی، میدانِ کربلا کے اس معرکہ حق و باطل نے تاقیامت یہ اُصول طے کردیا کہ باطل ہمیشہ ذلت و رُسوائی سے دوچار ہوتا رہے گا، چاہے اُسے بظاہر وقتی غلبہ ہی کیوں نہ حاصل ہو، اور حق ہمیشہ سُرخرو اور زندہ رہے گا چاہے اُسے طاقت کے بل بوتے پر جتنا بھی نقصان سے دوچار کردیا جائے۔یہ اللہ رب العزت کا اٹل فیصلہ ہے کہ بالآخر حق نے غالب اور باطل نے مٹ کر رہنا ہے، کیونکہ باطل آیا ہی مِٹ جانے کے لیے ہے. اہلِ حق تقویٰ، اتحاد اور استقامت کیساتھ باطل کے سامنے ڈٹے رہیں گے تو فتح و کامرانی ضرور اُن کا مقدر بنے گی۔ملی یکجہتی کونسل کے رہنماؤں نے مشترکہ مؤقف کیساتھ کہا ہے کہ ملک میں مذہب کے نام پر تعصبات، تفرقہ بندی، نفرتوں کا پھیلاؤ اور دہشت گردی و دل آزاری اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔تمام دینی جماعتیں اس کی مذمت اور اِس سے برآت کا اعلان کرتی ہیں۔خطیب، علماء، ذاکرین، نوحہ خواں ایسی ہر تحریر و تقریر سے اجتناب کریں جو کسی بھی مسلک، مکتبِ فکر کی دل آزاری اور اشتعال کا باعث بن سکتی ہے۔مِلی یکجہتی کونسل تمام تنظیمی صوبوں میں مِلتِ اسلامیہ کے اندر اتحاد و یگانگت اور امن و یکجہتی کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ اجلاس منعقد کرے گی۔اہلِ تشیع و اہلِ سُنت کے۔مشترکہ پروگرامات منعقد کیے جارہے ہیں. 7 محرم الحرام کو پیر ہارون علی گیلانی کی میزبانی میں درگاہ حضرت میاں میر مرکز میں شہادتِ حسین (رض) کانفرنس ہوگی جس مین شیعہ و سُنی رہنما شرکت اور خطاب کریں گے. مِلّتِ اسلامیہ کو اب مِلّتِ واحدہ بن کر اپنے مشترکہ دشمن اسرائیل، امریکہ اور انڈیا کو پیغام دینا ہوگا کہ ھم ایک ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: یکجہتی کونسل فلسطینیوں کی یکجہتی کو سے دوچار

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان