بھوپال برج کی ناکامی نے مودی سرکار کی کرپشن، نااہلی اور سفارشی نظام کو بے نقاب کر دیا۔ مودی سرکار کی کرپشن نے بھارت کے ترقیاتی منصوبوں کو نااہلی اور لوٹ مار کا شکار بنا دیا۔

ذرائع کے مطابق اربوں روپے کے منصوبے بھارتی عوام کے مفاد کے بجائے کرپشن اور بدانتظامی کی علامت اور جان و مال کے لیے خطرہ بن گئے۔

مودی سرکار میں ہر نیا منصوبہ ناقص منصوبہ بندی اور سیاسی مداخلت کی نذر ہوگیا۔ مودی راج میں ترقی کے نام پر بننے والے منصوبے عوام کے لیے اذیت بن چکے ہیں، جن کا کوئی احتساب نہیں۔

انڈیا ٹوڈے کے مطاب  مارچ 2023 میں شروع کیا گیا بھوپال برج عوامی استعمال سے پہلے ہی زمین بوس ہوگیا، بھوپال کا 18 کروڑ روپے لاگت کا اووربرج افتتاح سے پہلے ہی خطرناک موڑ پر عوامی تنقید کا شکار ہوگیا۔

انڈیا ٹوڈے کے مطابق منصوبے کو 18 ماہ میں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا گیا مگر مسلسل تاخیر کے بعد مدت بڑھا کر 36 ماہ کر دی گئی لیکن 27 ماہ بعد یہ منصوبہ تکمیل کے آخری مراحل پر پہنچنے سے قبل زمین بوس ہوگیا۔

این ڈی ٹی وی کے مطابق ’’غیر معمولی اور غیر محفوظ ڈیزائن پر بھارتی عوام نے سخت سوالات اٹھائے۔‘‘ اپوزیشن رہنماؤں نے پل کی ناقص منصوبہ بندی پر حکومت اور سینیئر افسران کی نا اہلی پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔

تعمیراتی حکام عوامی تنقید سے بچنے اور اپنی نااہلی چھپانے کے لیے واقعے کی سنگینی پر پردہ ڈالتے رہے۔

یہ پل پشپا نگر اور نیو بھوپال کو جوڑنے کے لیے بنایا گیا تھا مگر افادیت کے بجائے اب خطرے کا باعث بن گیا۔ ریاستی منصوبے تجربہ کار ماہرین کے بجائے بی جے پی نواز نالائق انجینئرز کے رحم و کرم پر ہیں۔

خطیر رقم خرچ ہونے کے باوجود پل کا ڈیزائن عوامی تحفظ سے خالی تھا۔ مودی سرکار میں کرپشن اور انتظامی نااہلی نے بھارت کے ریاستی ڈھانچے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔

مودی سرکار کی بے ربط اور غیر پیشہ ورانہ منصوبہ بندیاں بھارتی عوام کے لیے وبال جان بن چکی ہیں۔ بھوپال اسکینڈل مودی سرکار میں اقربا پروری اور نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مودی سرکار کی کے لیے

پڑھیں:

جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ

ملک میں جعلی اور غیر معیاری ادویات کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات کے لیے جدید ٹریک اینڈ ٹریس نظام نافذ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو جعلی دواؤں سے محفوظ بنانا اور دوا سازی کے شعبے میں شفافیت اور نگرانی کو مزید موثر بنانا ہے۔منگل کے روز وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے اس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے ڈرگ لیبلنگ اور پیکنگ رولز میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایک جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جائے گا.جس کے ذریعے ادویات کی تیاری سے لے کر صارف تک پہنچنے کے پورے عمل کی نگرانی اور تصدیق ممکن ہو سکے گی۔وزیر صحت کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان سے جعلی، نقلی اور ناقص معیار کی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک تاریخی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ ملک میں دستیاب ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور تصدیق کیا جا سکے گا.جس سے ادویات کے نظام میں شفافیت، تحفظ اور جوابدہی میں نمایاں بہتری آئے گی۔نئے ضوابط کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کو اپنی مصنوعات کی پیکنگ پر معیاری ٹو ڈی (2D) بارکوڈز اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کرنا ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے متعلقہ ادارے ادویات کی نقل و حرکت پر پیداواری مرحلے سے لے کر صارف تک مسلسل نظر رکھ سکیں گے، جبکہ جعلی مصنوعات کی نشاندہی اور ان کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نظام مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد عوام کسی بھی دوا کی میعاد ختم ہونے کی تاریخ، قیمت اور تصدیقی حیثیت سمیت دیگر اہم معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل کر سکیں گے۔ اس سے مریضوں کو بہتر اور باخبر فیصلے کرنے میں مدد ملے گی اور دواسازی کے شعبے پر عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا۔اس منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP) کرے گی جو دوا ساز صنعت کے لیے تفصیلی تکنیکی رہنما اصول بھی جاری کرے گی تاکہ نئے نظام سے مطابقت پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں متعلقہ فریقوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس پہلے ہی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ منتقلی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل ہو سکے۔وزیر صحت نے اس بات پر زور دیا کہ جدید ڈیجیٹل نظام روایتی نگرانی کے طریقوں کی جگہ لے کر ادویات کی فراہمی کے پورے نظام کو زیادہ محفوظ اور معیاری بنائے گا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی کا استعمال پاکستان کو خطے کے ان ممالک کی صف میں شامل کرے گا جہاں ادویات کی نگرانی اور ریگولیشن کے جدید ترین نظام رائج ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریک اینڈ ٹریس نظام جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط حفاظتی دیوار ثابت ہوگا اور عوامی صحت، انسانی جانوں اور دواسازی کے نظام پر اعتماد کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

متعلقہ مضامین

  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ