خیبرپختونخوا حکومت نے سوات واقعہ میں غفلت کا مظاہرہ کیا: فیصل کریم کنڈی
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت نے سوات واقعہ میں غفلت کا مظاہرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے لئے بہتر سہولیات ہونی چاہئیں ، خیبرپختونخواحکومت نے سوات واقعہ میں غفلت کا مظاہرہ کیا، خیبرپختونخوا میں واقعہ ہوا تو ریسکیو ادارہ کدھر تھا؟۔ فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ سوات کے نمائندے بہرے اور گونگے ہو چکے ہیں، بلین ٹری پراجیکٹ کہاں ہے؟ ، پی ڈی ایم اے پیسہ کس بات کا لے رہا ہے؟ تجاوزات کے خلاف کارروائیاں کیوں نہیں ہو رہیں؟ سوات واقعہ میں کردار اداکرنے والے ہیرو انعام کے حقدار ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا نے کہا کہ پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کو سپورٹ کرتی ہے، پیپلز پارٹی وفاقی کابینہ کا حصہ بننے کا فیصلہ کرتی ہے تو اچھی بات ہے، پیپلزپارٹی میں کچھ سیاسی لو گ شامل ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور چودھری نثار میں ملاقات بڑے عرصے بعد ہوئی، چودھری نثار ن لیگ میں جاتے ہیں یا نہیں یہ ان کا اپنا فیصلہ ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سوات واقعہ میں نے کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔