بھارتی خلائی مشن کا پول کھل گیا، ’فیک نیوز واچ ڈاگ‘ کی چشم کشا رپورٹ منظرِ عام پر
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
بھارت کے خلائی مشن ’چندرایان-3‘ اور اسرو کی ساکھ کو شدید دھچکا، فیک نیوز پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فیک نیوز واچ ڈاگ نے ایک 65 صفحات پر مشتمل وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے بھارتی خلائی پروگرام کی حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق بھارتی قومی اور سوشل میڈیا پر چندرایان-3 کی کوریج ایک منظم ڈرامہ تھی، جس میں مصنوعی گرافکس، جعلی ویڈیوز اور اسٹیج شدہ کمانڈ سینٹرز کا سہارا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں بھارتی میڈیا کی انڈیا سمیت دنیا بھر میں ساکھ صفر ہوگئی، فیک نیوز واچ ڈاگ کی رپورٹ جاری
فیک نیوز واچ ڈاگ نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی خلائی ادارہ اسرو کی جانب سے چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ کا دعویٰ محض ایک فریب تھا، کیونکہ درحقیقت لینڈنگ پوائنٹ اصل قطب سے تقریباً 630 کلومیٹر دور واقع تھا۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ چندرایان-3 کے لائیو دکھائے گئے مناظر دراصل کمپیوٹر سے تیار کردہ گرافکس تھے، جنہیں قومی فخر کے طور پر پیش کیا گیا۔ اسرو کا کمانڈ سینٹر جسے بار بار میڈیا پر دکھایا گیا، ایک اسٹیج شدہ ماحول کی عکاسی کرتا ہے جس کا اصل مشن کنٹرول سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
واچ ڈاگ کے مطابق نہ صرف مشن کی لینڈنگ مشکوک رہی بلکہ مشن کے بعد نہ تو کوئی معتبر سائنسی ڈیٹا جاری کیا گیا اور نہ ہی مشن کے لینڈر یا روور کی کوئی ٹھوس معلومات فراہم کی گئیں۔ بین الاقوامی ماہرینِ فلکیات، خصوصاً چین کے سائنسدانوں نے بھی بھارتی دعووں پر سنجیدہ اعتراضات اٹھائے ہیں۔
رپورٹ کے سب سے اہم انکشافات میں یہ بھی شامل ہے کہ چندرایان-3 جیسے مشنز درحقیقت بھارت کے عسکری عزائم کی نمائندگی کرتے ہیں۔
فیک نیوز واچ ڈاگ کے مطابق بھارتی خلائی پروگرام کو بی جے پی حکومت پاکستان اور چین کے خلاف دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ 2019 کے مشن شکتی تجربے اور ڈیفنس اسپیس ایجنسی جیسے اداروں کی تشکیل نے اس پروگرام کو کھلے طور پر عسکری بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بھارت نے سیٹلائٹ ٹیکنالوجی، میزائل ڈیفنس اور نگرانی کے نظام پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اسرو کے چیئرمین کے مطابق بھارت کے 56 سیٹلائٹس میں سے 10 سیٹلائٹس براہ راست فوجی مقاصد جیسے نگرانی، نیویگیشن اور کمیونیکیشن کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ آپریشن سندور میں بھی ان سیٹلائٹس سے استفادہ کیا گیا۔
علاوہ ازیں، نریندر مودی حکومت کیSpace Vision 2047 اور Make in India مہم کو بھی رپورٹ میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
فیک نیوز واچ ڈاگ کے مطابق یہ پالیسیاں اصل سائنسی ترقی کی بجائے ایک خاص طبقے کے ٹیکنالوجیکل نیشنلزم کو فروغ دینے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، تاکہ بھارت کی بین الاقوامی ساکھ کو مصنوعی طور پر بلند کیا جا سکے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار بھی چونکا دینے والے ہیں۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 86 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے جو کہ پاکستان کے دفاعی بجٹ سے 9 گنا زیادہ ہے، جب کہ دوسری جانب ملک کی 30 کروڑ سے زائد آبادی اب بھی صاف پانی، بجلی اور بیت الخلا جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے۔
فیک نیوز واچ ڈاگ نے بھارتی میڈیا پر بھی شدید تنقید کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی حکومت اور گودی میڈیا نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی ویڈیوز کو قومی بیانیہ بنانے کی کوشش کی، مگر سچ چھپایا نہ جا سکا۔ واچ ڈاگ نے یاد دلایا کہ یہ پہلا موقع نہیں جب بھارتی میڈیا کو جعلی خبروں کی اشاعت پر عالمی سطح پر ہزیمت اٹھانی پڑی ہو۔
یہ بھی پڑھیں کیا پاکستان امریکا تک مار کرنے والا میزائل تیار کر رہا ہے؟ بھارتی پراپیگنڈا بےنقاب
رپورٹ کے اختتام پر واچ ڈاگ نے کہا ہے کہ بھارت کو اپنے خلائی مشنز میں شفافیت، سائنسی دیانتداری اور بین الاقوامی سائنسی معیار کو مدنظر رکھنا ہوگا، ورنہ اس کی ساکھ ایک پروپیگنڈا ریاست سے زیادہ کچھ نہیں رہے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارتی خلائی مشن چندریان 3 فیک نیوز فیک نیوز واچ ڈاگ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی خلائی مشن چندریان 3 فیک نیوز فیک نیوز واچ ڈاگ وی نیوز فیک نیوز واچ ڈاگ کے مطابق بھارت بھارتی خلائی واچ ڈاگ نے چندرایان 3 خلائی مشن رپورٹ کے کہ بھارت کیا گیا یہ بھی
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے