بلوچستان ہائیکورٹ کے جج کا جوڈیشل کمیشن کو خط، سابق جج کی مسلسل نامزدگی پر اعتراض
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
بلوچستان ہائیکورٹ کے سینیئر ترین جج جسٹس کامران ملا خیل نے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو ایک تحریری خط ارسال کرتے ہوئے ایک سابق جج کی مسلسل نامزدگی پر اعتراض اٹھا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں اسلام آباد ہائیکورٹ کا مستقل چیف جسٹس کون ہوگا؟ فیصلہ جوڈیشل کمیشن کرے گا
یہ خط جسٹس کامران ملا خیل کی جانب سے باضابطہ طور پر چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں کام کرنے والے جوڈیشل کمیشن کو لکھا گیا، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ریٹائرڈ جسٹس نذیر احمد لانگو کو جو پہلے ایک اجلاس کے لیے نامزد کیا گیا تھا، ان کی نامزدگی کا مقصد اب پورا ہو چکا ہے۔
خط کے مندرجات کے مطابق جسٹس نذیر لانگو کو اس وقت نامزد کیا گیا تھا جب بلوچستان ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس کی تقرری زیر غور تھی، اور اس وقت جسٹس اعجاز سواتی کو چیف جسٹس تعینات کرنے کا عمل جاری تھا۔ اب جبکہ جسٹس اعجاز سواتی کو مستقل چیف جسٹس مقرر کیا جا چکا ہے، تو جس اجلاس کے لیے سابق جج کو نامزد کیا گیا تھا، وہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔
جسٹس کامران ملاخیل نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چونکہ اب بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کی مستقل تقرری عمل میں آ چکی ہے، لہٰذا عدالت کی موجودہ صورتحال میں اگر چیف جسٹس کسی وجہ سے دستیاب نہیں تو ایسی صورت میں دوبارہ کسی دوسرے موزوں جج کو جوڈیشل کمیشن میں نمائندگی کے لیے نامزد کیا جانا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں ہائیکورٹس میں مستقل چیف جسٹس کی تقرری کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن کا اجلاس طلب
انہوں نے زور دیا ہے کہ آئندہ اجلاسوں کے لیے نئی نامزدگی موجودہ عدالتی ڈھانچے اور ضروریات کے مطابق کی جائے، تاکہ جوڈیشل کمیشن میں تمام نامزدگیوں کا عمل شفاف، غیر جانبدار اور آئینی تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اعتراض بلوچستان ہائیکورٹ سابق جج نامزدگی وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان ہائیکورٹ نامزدگی وی نیوز بلوچستان ہائیکورٹ کے مستقل چیف جسٹس جوڈیشل کمیشن نامزد کیا کے لیے
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔