پاکستان نے ہمارے جنگی طیارے مار گرائے تھے: بھارتی دفاعی اتاشی کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارت کے دفاعی اتاشی نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے بھارت کے جنگی طیارے مار گرائے تھے۔
نجی نیوز چینل کے مطابق بھارت کے دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار نے انڈونیشیا میں سیمینار میں پریزنٹیشن میں کہا اس بات سے اتفاق کرتا ہوں ہم نے کچھ طیارے کھوئے ہیں، تعداد بتانے سے گریز مگر طیارے گرانے کی نئی وجہ بتا دی۔
انڈونیشیا میں تعینات انڈین ڈیفنس اتاشی بحریہ کے کیپٹن شیو کمار نے کہا کہ سیاسی قیادت نے ایئر فورس کو پاکستانی فوجی تنصیبات اور فضائی دفاعی نظام پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دی تھی، انہوں نے مزید کہا کہ ایئر فورس کو سیاسی قیادت کے احکامات کے باعث پاکستان کے ہاتھوں نقصان ہوا۔
یاد رہے کہ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس نے مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا تھا کہ قوم کو سچ بتایا جائے، اگر بھارت جیسے حساس دفاعی معاملے میں سچ چھپایا گیا تو یہ نہ صرف شفافیت کے خلاف ہے بلکہ قومی سلامتی پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ انکشاف ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بدستور موجود ہے اور دونوں ممالک کے درمیان معمولی جھڑپ بھی کسی بڑے تنازع میں بدل سکتی ہے۔
ادھر انڈونیشیا میں بھارتی سفارتخانے نے دفاعی اتاشی کی جانب سے سیمینار میں پیش کی گئی پریزنٹیشن سے متعلق میڈیا رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ کیپٹن شیو کمار کے طیارے گرائے جانے سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا۔
بھارتی دفاعی اتاشی کا بیان سامنے آنے پر کانگریس نے مودی سرکار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی سرکار نے قوم کو گمراہ کیا اور یہ بتانے میں ناکام رہی کہ آپریشن سندور میں بھارت کے کتنے لڑاکا طیارے تباہ ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دفاعی اتاشی بھارت کے کہا کہ
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ