ابراہم اکارڈ سے متعلق پریشر آیا تو اپنے مفادات دیکھیں گے،وزیردفاع خواجہ آصف
اشاعت کی تاریخ: 30th, June 2025 GMT
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف سے سینئر صحافی و اینکر پرسن ندیم ملک نے سوال کیا کہ خبر آرہی ہے کہ ابراہم اکارڈ پر پریشر آ نے والا ہے ؟ جس پر وزیر دفاع نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب دباؤ آئے گا تو دیکھا جائے گا، اس معاملے پر مشاورت بھی ہو رہی ہے ، اس پر جواب تب دیں گے جب ہمیں اس اکارڈ کا حصہ بننے کا کہا جائے گا، ابراہم اکارڈ سے متعلق پریشر آیا تو اپنے مفادات دیکھیں گے ۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان نے بھارت کے طیارے گرائے جو کہ فخر کی بات ہے ، اللہ کا شکر ہے کہ ہم اس وقت سر اٹھا کر دنیا میں چل رہے ہیں، مودی اور اس کے ساتھیوں کا تکبر مٹی میں ملا ہے ، ان لمحات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا، ہمارے سائبر واریئرز نے کمال کے کارنامے دکھائے ہیں، ہمارے میڈیا نے بہت شاندا ر رپورٹنگ کی جبکہ بھارتی میڈیا میں سرکس اور نوٹنکی ہو رہی تھی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ جس طرح آئی ایس پی آر نے فرنٹ پر لیڈ کیاہے انہوں نے بہت ہی شاندار کام کیاہے ، یہ ہماری تاریخ کا سنہرا لمحہ تھا جسے آنے والی نسل یاد رکھے گی ، ایس سی او میں بھی چین کے دفاعی وزیر سے با ت چیت ہوئی ہے ، چینی ہمارے بہت اچھے دوست ہیں، جس طرح چین نے 70 سالوں میں ہمارا ساتھ دیاہے ، جہاں بھی ہمیں ضرورت پڑی ہے ، وہ ہمارے ساتھ ستون کی طرح کھڑے ہوئے، بڑے بڑے ملک بھارت کیخلاف فتح پر مبارک دے رہے ہیں ۔
ان کا کہناتھا کہ بھارت بلوچستان میں دہشتگردی میں ملوث ہے ،ہمارےپاس ثبوت ہیں، ایس سی اواجلاس کےموقع پربھارتی وزیر دفاع سے بات نہیں ہوئی، بھارتی وزیر دفاع نے میری تقریر کے بعد وقت مانگا، ایس سی او کی روایت نہیں ہے دوبارہ تقریر کیلئے وقت دینا ، بھارت کو اجازت نہیں ملی، ہماری ٹیم مجھے تقریر کے دوران بھی چیزیں بتا رہی تھی، ہماری سفارتی ٹیم بہت ہی شاندار ہے ، پاکستان میں دہشتگردی کے واقعات پر متعدد ممالک نے ہمارے مؤقف کی تائید کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے دوبارہ پاکستان پر حملے کا امکان ہے،لیکن میرا خیال ہے کہ مودی کو اندر سے بھی اب سپورٹ حاصل نہیں ہے ، بھارت کی سیاسی جماعتوں اور دانشور حقیقت عوام کے سامنے رکھ رہے ہیں کہ مودی جھوٹ بول رہاہے ، مودی نے جو بیانیہ اپنایا اس سے اسے بہت نقصان پہنچا ہے ، ہم امن چاہتے ہیں،بھارت سے بات چیت کیلئے تیار ہیں ۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ہمارا موقف یہی ہے کہ بھارت نے اگر پاکستان کا پانی روکا تو اسے جنگ تصور کیا جائے گا، مسئلہ کشمیر اور پانی کا ایشو بات چیت سے حل ہونا چاہیے، ایران اسرائیل جنگ میں پاکستان نے ایران کا ساتھ دیا، بھارت کو ایران میں اب اتنی پذیرائی نہیں ملے گی، اس وقت سیاسی اور عسکری قیادت متحد ہے، عالمی اکنامک فورمز پر امریکا پاکستان کو سپورٹ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر موجود صورتحال میں ہم کھیل کا حصہ اور کھلاڑی ہیں، موجودہ صورتحال مین اگر ہم تماشائی بنے اور کھلاڑی نہ بنے تو اس کا نقصان ہوگا ، امریکہ کی کسی ایسی پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے جس کا ہمیں نقصان ہو، ابراہم اکارڈ سے متعلق دباؤ آیا تو اپنے مفادات دیکھیں گے ، ، اس معاملے پر مشاورت بھی ہو رہی ہے ،اس پر جواب تب دیں گے جب ہمیں کہا جائے گا کہ اس اکارڈ کا حصہ بنیں ۔
خواجہ آصف کا کہناتھا کہ فلسطین کے لوگ جس طرح ظلم سہہ رہے ہیں لیکن سر نہیں جھکا رہے ہیں ، مسلم دنیا کا اللہ حساب لے گا، ڈیڑھ ارب مسلمانوں نے قیامت کے روز حساب دینا ہے ، میرا یمان ہے ، فلسطین والے قیامت کے روز شکایت کریں گے اور ہم جواب دیں گے ، یہ معاف نہیں ہوگا، یہ اجتماعی گناہ ہے ، اللہ معاف کرنے والا ہے ، جو ہو رہاہے اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ہے ، مشرقی ممالک میں لوگوں کا ضمیر جاگا ہواہے ، لیکن مسلمان دنیا میں ہو کا عالم ہے ۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔