پاکستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے اہم سنگ میل عبور
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
اسلام آباد:
اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مؤثر سہولت کاری سے پاکستان نے سیاحت کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگ میل عبور کر لیا۔
گلگت بلتستان میں کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کی رائلٹی فیس کے تنازع کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا، جس سے خطے میں سیاحتی سرگرمیوں کی بحالی کی راہ ہموار ہوگئی۔
اس پیشرفت سے نہ صرف مقامی ہوٹل مالکان، گائیڈز، پورٹرز اور ٹرانسپورٹرز کا اعتماد بحال ہوا ہے بلکہ بین الاقوامی کوہ پیماؤں کے اعتماد میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رائلٹی فیس کے مسئلے کے باعث کچھ عرصے سے سیاحتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی تھیں، تاہم مختلف اسٹیک ہولڈرز کی بروقت مشاورت اور شمولیت کے ذریعے اس چیلنج کا فوری اور مؤثر حل ممکن بنایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ایس آئی ایف سی پاکستان میں سرمایہ کاری اور سیاحت کو آسان، پائیدار اور سازگار ماحول میں فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔
کوہ پیمائی کے شعبے میں حالیہ پیشرفت اسی تسلسل کا حصہ ہے، جو نہ صرف سیاحتی شعبے کو تقویت دے گی بلکہ ملکی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
اسحاق ڈار---فائل فوٹونائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ امریکا ایران تنازع میں پاکستان کی ثالثی کوششوں کو یورپی یونین کی جانب سے سراہا گیا ہے، پاکستان خطے میں امن، سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یورپی یونین کی رہنما کایا کالاس کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ آخری یورپی یونین وزٹ 7 سال پہلے ہوا تھا، ہم پچھلے سال بھارت پاکستان جنگ اور ایران امریکا تنازع کے دوران قریبی رابطے میں رہے، آج ہم نے مشترکہ طور پر اسٹریٹیجیک مذاکرات کی صدارت کی، ہم نے پچھلے سال نومبر میں مشترکہ اسٹریٹیجیک مذاکرات کیے تھے، امریکا ایران تنازع کے دوران یورپی یونین کے تعاون کا مشکور ہوں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم نے سیکیورٹی ایشوز اور دہشت گردی کے امور پر بھی بات کی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی افغانستان میں موجودگی پر بھی بات کی، پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت جاری ہے، کایا کالاس کا دورہ اس کا واضح ثبوت ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ امور اور سیکیورٹی پالیسی کی سربراہ نے امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے پاکستان کےثالثی اقدامات کی تعریف کر دی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان آٹھواں اسٹریٹجک ڈائیلاگ اعلیٰ ترین ادارہ جاتی مکالمہ ہے، پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور ترقیاتی تعاون کے فروغ پر اتفاق ہوا، جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کا تجارتی تعاون دونوں فریقوں کے لیے فائدہ مند ہے، اسلام آباد میں پاکستان یورپی یونین بزنس فورم کا انعقاد دو طرفہ اقتصادی تعلقات کے فروغ میں اہم پیش رفت ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر تنازع کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے، انڈس واٹرز معاہدہ برقرار ہے، حالیہ عدالتی فیصلے نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کی ہے، افغان سر زمین سے دہشت گرد عناصر کی پاکستان میں کارروائیاں بدستور ہماری بڑی تشویش ہیں، پاکستان اور یورپی یونین نے دو طرفہ تعلقات کو جامع اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔