data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کندھکوٹ(نمائندہ جسارت) ایک طرف بدامنی تو دوسری جانب قبائلی جھکڑوں نے کشمور کے لوگوں کا جینا اجیرن کر دیا ہے۔ گزشتہ روز کشمور تھانہ کی حدود 45 آر ڈی لنک روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے ایک شخص کو بیوی بچوں کے سامنے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔ مسلح افراد فائرنگ کرتے ہوئے موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ مقتول کی شناخت 45 سالہ حسین بخش مزاری کے نام سے ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور لاش کو قانونی کارروائی کیلئے تعلقہ اسپتال کشمور منتقل کیا گیا۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔ لاش گھر پہنچنے پر کہرام مچ گیا۔ مقتول کے ورثا کا کہنا تھا کہ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں کھڑد مزاری برادری نے ناحق ہمارے جوان کو قتل کر دیا۔ علاقے میں افواہیں گردش کر رہیں تھیں کہ فریقین میں چوری کے معاملے پر کشیدگی برقرار تھی۔ کھڑد برادری کا ایک شخص چوری کے معاملے پر قتل ہوچکا تھا جس کے بدلے میں حسین بخش مزاری کو قتل کیا گیا۔ دوسری جانب رابطہ کرنے پر ہیڈ محرر کشمور تھانہ جام مرید کا کہنا تھا کہ ورثا کفن دفن سے فارغ ہو کر جب واپس آئیں گے تو مقدمہ درج کیا جائے گا اور قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ واقعے کے بعد علاقے میں کشیدگی اور فریقین پڑوسی ہونے کی وجہ سے مورچہ بند ہوگئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا