بارشوں سے ڈیموں میں پانی کی آمد میں مسلسل اضافہ، واسا کی جانب سے الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
ملک میں جاری بارش کے سلسلے سے ڈیموں میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوگیا ہے، اسلام آباد میں راول ڈیم اور سملی ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے جس کے باعث واسا نے الرٹ جاری کردیا ہے، جبکہ تربیلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے۔
محکمہ موسمیات اورایم ڈی واسا کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی شپ اسلام آباد کے سیکٹر ایچ-8 میں سب سے زیادہ 66 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جبکہ شمس آباد میں 59 ملی میٹربارش ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: خانپور ڈیم میں پانی ڈیڈ لیول کے قریب پہنچ گیا، راولپنڈی اور اسلام آباد کو سنگین بحران کا سامنا
تیز بارشوں کے باعث راول ڈیم اور سملی ڈیم میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوا ہے، راول ڈیم میں پانی کی مکمل گنجائش 1752 فٹ ہے جبکہ موجودہ سطح 1735.
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پرپانی کی سطح ساڑھے 12 فٹ جبکہ گوالمنڈی پل پر 6.5 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے، حکام نے نشیبی علاقوں میں رہائش پذیر شہریوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔
تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے 96 فٹ بلندترجمان تربیلا ڈیم کے مطابق پانی کی سطح ڈیڈ لیول سے 96 فٹ بلند ہوکر 1498.65 فٹ تک پہنچ گئی ہے جبکہ پانی کی آمد 2 لاکھ 93 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگلے 4 سے5 روز میں منگلا، تربیلا ڈیمز میں پانی مکمل ختم ہونے کا خدشہ
تربیلا ڈیم سے پانی کا اخراج اس وقت 1 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے، جوآبپاشی اورتوانائی کی ضروریات کے مطابق جاری رکھا جارہا ہے، ڈیم کے تمام 17 پیداواری یونٹ فعال ہیں اوران سے مجموعی طورپر2613 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے،جو نیشنل گرڈ کو فراہم کی جارہی ہے۔
حکام کے مطابق پانی کی موجودہ صورتحال تسلی بخش ہے اور بجلی کی پیداوار میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news اسلام اباد الرٹ جاری بارش پاکستان پانی تربیلا ڈیم راول ڈیم سملی ڈیم محکمہ موسمیات ہری پور واسا
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسلام اباد الرٹ جاری پاکستان پانی تربیلا ڈیم راول ڈیم سملی ڈیم محکمہ موسمیات ہری پور واسا ڈیم میں پانی کی پانی کی سطح تربیلا ڈیم راول ڈیم سملی ڈیم کے مطابق گئی ہے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.