بچوں کی بیرون ملک منتقلی اور دستاویزات میں تبدیلی کے مقدمے میں صارم برنی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی نے بچوں کی بیرون ملک منتقلی اور دستاویزات میں تبدیلی کے مقدمے میں ملزم صارم برنی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی یسری اشفاق کی عدالت کے روبرو بچوں کی بیرون ملک منتقلی اور دستاویزات میں تبدیلی کے مقدمے میں ملزم صارم برنی کی درخواست ضمانت کی سماعت ہوئی۔
ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ وکیل صفائی راج علی واحد کنور ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ عدالت قانون کے مطابق پراسیکیوٹر کو نوٹس کرنے کی پابند ہے۔
اگر پراسیکیوٹر دلائل کے لیئے پیش نہیں ہورہا تو عدالت اس کے دلائل کے بغیر فیصلہ کرسکتی ہے۔
عدالت نے صارم برنی کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
عدالت نے ریمارکس دیئے کہ درخواست ضمانت پرفیصلہ 4 جولائی کو سنایا جائے گا۔ اگر پراسیکیوٹر چاہے تو 4 جولائی سے پہلے دلائل دے سسکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: صارم برنی کی درخواست
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔