Daily Mumtaz:
2026-06-03@04:46:02 GMT

ایک اور ڈیڈلائن گزر گئی،حکومت5 جی لانچ کرنے میں ناکام

اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT

ایک اور ڈیڈلائن گزر گئی،حکومت5 جی لانچ کرنے میں ناکام

پاکستان میں فائیوجی کی لانچنگ نہ ہوسکی، موجودہ حکومت بھی 30 جون کی ڈیڈلائن کے مطابق فائیو جی لانچ کرنے میں ناکام ہوگئی، مقررہ مدت میں فائیو 5 لانچنگ تو دور کی بات اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بھی نہ ہو سکا۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کہتی ہیں فائیوجی کی نیلامی میں تاخیر قانونی معاملات کی وجہ سے ہوئی، وزیر خزانہ سے اسپیکٹرم آکشن کمیٹی اجلاس کے انعقاد کی درخواست کی  ۔
پاکستان میں فائیو جی لانچنگ کی چوتھی ڈیڈلائن بھی یونہی گزر گئی، موجودہ حکومت صارفین کو تیزرفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کا وعدہ پورا نہ کرسکی۔
وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے فائیو جی لانچنگ کیلئے جون 2025ء کی ڈیڈلائن دی تھی۔ سابق وفاقی وزیر امین الحق نے پہلے دسمبر 2022ء اور پھر جولائی 2023ء کی تاریخ دی، نگران وزیر عمر سیف نے اگست 2024ء تک فائیو جی متعارف کرانے کا اعلان کیا تاہم حکومتوں کے سبھی دعوے ہوا ہوتے رہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے سماء سے گفتگو میں قانونی معاملات کو فائیو جی کی لانچنگ میں رکاوٹ قرار دیا اور جلد پیشرفت کی امید دلائی لیکن کوئی نئی ڈیڈلائن نہیں دی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیر خزانہ سے فائیو جی اسپیکٹرم آکشن کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کی درخواست کی ہے، تھرڈ پارٹی کنسلٹنسی فرم نے نیلامی کے حوالے سے اپنا کام مکمل کرلیا ہے، فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا فیصلہ اسپیکٹرم آکشن کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کو فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے حوالے سے بدستور کئی مشکلات کا سامنا ہے، ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ قانونی تنازعات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، نیلامی کیلئے مختص 196 میگا ہرٹز اسپیکٹرم میں سے 146 میگا ہرٹز پر عدالت نے حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔
وزیر آئی ٹی کے مطابق ٹیلی نار اور پی ٹی سی ایل کے انضمام سے متعلق مسابقتی کمیشن کی منظوری کے بعد ہی معاملات آگے بڑھیں گے۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اسپیکٹرم ا شزا فاطمہ فائیو جی

پڑھیں:

برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف

وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹو

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔

وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔

پاکستان اے آئی میں عالمی سطح پر قدم رکھنے کیلئے تیار ہے: شہباز شریف

نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔

وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف