ایک اور ڈیڈلائن گزر گئی،حکومت5 جی لانچ کرنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 1st, July 2025 GMT
پاکستان میں فائیوجی کی لانچنگ نہ ہوسکی، موجودہ حکومت بھی 30 جون کی ڈیڈلائن کے مطابق فائیو جی لانچ کرنے میں ناکام ہوگئی، مقررہ مدت میں فائیو 5 لانچنگ تو دور کی بات اسپیکٹرم ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بھی نہ ہو سکا۔ وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ کہتی ہیں فائیوجی کی نیلامی میں تاخیر قانونی معاملات کی وجہ سے ہوئی، وزیر خزانہ سے اسپیکٹرم آکشن کمیٹی اجلاس کے انعقاد کی درخواست کی ۔
پاکستان میں فائیو جی لانچنگ کی چوتھی ڈیڈلائن بھی یونہی گزر گئی، موجودہ حکومت صارفین کو تیزرفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کا وعدہ پورا نہ کرسکی۔
وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے فائیو جی لانچنگ کیلئے جون 2025ء کی ڈیڈلائن دی تھی۔ سابق وفاقی وزیر امین الحق نے پہلے دسمبر 2022ء اور پھر جولائی 2023ء کی تاریخ دی، نگران وزیر عمر سیف نے اگست 2024ء تک فائیو جی متعارف کرانے کا اعلان کیا تاہم حکومتوں کے سبھی دعوے ہوا ہوتے رہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ نے سماء سے گفتگو میں قانونی معاملات کو فائیو جی کی لانچنگ میں رکاوٹ قرار دیا اور جلد پیشرفت کی امید دلائی لیکن کوئی نئی ڈیڈلائن نہیں دی۔
شزا فاطمہ نے کہا کہ وزیر خزانہ سے فائیو جی اسپیکٹرم آکشن کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد کی درخواست کی ہے، تھرڈ پارٹی کنسلٹنسی فرم نے نیلامی کے حوالے سے اپنا کام مکمل کرلیا ہے، فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا فیصلہ اسپیکٹرم آکشن کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت کو فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کے حوالے سے بدستور کئی مشکلات کا سامنا ہے، ٹیلی کام آپریٹرز کے ساتھ قانونی تنازعات سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، نیلامی کیلئے مختص 196 میگا ہرٹز اسپیکٹرم میں سے 146 میگا ہرٹز پر عدالت نے حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔
وزیر آئی ٹی کے مطابق ٹیلی نار اور پی ٹی سی ایل کے انضمام سے متعلق مسابقتی کمیشن کی منظوری کے بعد ہی معاملات آگے بڑھیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اسپیکٹرم ا شزا فاطمہ فائیو جی
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،