data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بیجنگ: چین نے پیر کے روز کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ اس کا دیرینہ سرحدی تنازع “پیچیدہ” نوعیت کا ہے اور اس کے حل میں وقت لگے گا، تاہم بیجنگ اس معاملے پر سفارتی رابطوں کے موجودہ میکنزمز کے ذریعے بات چیت جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے یہ بات ایک معمول کی پریس بریفنگ کے دوران کہی، جہاں وہ حالیہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان پر ردعمل دے رہی تھیں۔ راج ناتھ سنگھ نے ایک منظم روڈ میپ کے ذریعے کشیدگی میں کمی اور مستقل سرحدی حل کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

ماؤ ننگ نے کہا “سرحدی معاملہ پیچیدہ ہے اور اس کو حل کرنے میں وقت لگے گا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مختلف سطحوں پر بات چیت کے لیے میکنزمز قائم ہیں، جو مثبت پیش رفت کی علامت ہیں۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے گزشتہ ہفتے چین کے وزیر دفاع ڈونگ جن سے چین کے مشرقی شہر چنگ ڈاؤ میں ملاقات کی تھی۔

چینی ترجمان نے واضح کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع کے حل کے لیے خصوصی نمائندگان کا میکنزم اور سیاسی اصولوں و رہنما خطوط پر مبنی معاہدہ موجود ہے۔

ماؤ ننگ نے مزید کہا “چین بھارت کے ساتھ سرحدی حد بندی، سرحدی انتظام، اور دیگر امور پر بات چیت جاری رکھنے کا خواہاں ہے تاکہ دونوں ممالک سرحدی علاقوں میں امن و سکون کو برقرار رکھ سکیں اور سرحد پار تبادلے و تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔”

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا

پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔

حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای کی ملاقات، دوطرفہ تعلقات اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • ایس سی او اجلاس کے موقع پر پاک چین وزرائے خارجہ کی ملاقات، علاقائی امن اور تعاون پر تبادلۂ خیال
  • پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
  • عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ