سرکاری افسران سے گزشتہ مال سال کے دوران اثاثوں کی تفصیلات طلب
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (آن لائن )اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے سرکاری افسران سے گزشتہ مال سال کے دوران اثاثوں کی تفصیلات طلب کر لیں۔سرکاری افسران اپنے اثاثوں اور ملکیت کی
تفصیلات 25 جولائی تک فراہم کریں۔مراسلہ میں کہاگیا ہے کہ پی اے ایس، پی ایس پی، سیکریٹریٹ اور او ایم جی گروپ کے افسران اسٹیبلیشمنٹ ڈویژن کو تفصیل فراہم کریں،دیگر گروپس کے افسران متعلقہ وزارتوں کو اپنے اثاثوں کی تفصیلات فراہم کر سکتے ہیں، اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی، گزشتہ پانچ سالوں سے اثاثوں کی تفصیلات فراہم نہ کرنے والے سرکاری افسران ترقی کے حقدار نہیں ہوں گے۔ جو محکمہ جات اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے زیر انتظام نہیں وہ اپنے افسران کے اثاثوں کی تفصیلات موصول ہونے کی رپورٹ 25 ستمبر تک جمع کرائیں۔
اثاثے
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اثاثوں کی تفصیلات سرکاری افسران
پڑھیں:
پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
کابینہ کمیٹی برائے متعدی امراض، ڈینگی و ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا اجلاس لاہور میں ہوا، پنجاب کے وزرائے صحت سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے اجلاس کی صدارت مشترکہ طور پر صدارت کی۔
اس موقع پر پنجاب کے وزرائے صحت نے کہا کہ ڈینگی کے افزائش والے اضلاع پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، صوبے بھر میں ڈینگی کی تازہ صورتحال پر قابو پانے کیلیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
صوبائی وزیر خواجہ عمران نذیر نے متعلقہ افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت کی۔ انھوں نے کہا ہمیشہ دیکھا گیا ہے کہ جون جولائی میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کے مثبت نتائج سامنے آتے ہیں۔
خواجہ عمران نذیر نے کہا ڈینگی وائرس پر قابو پانے کے اقدامات کسی ایک محکمہ کی ذمہ داری نہیں، اقدامات کی ذمہ داری تمام اسٹیک ہولڈرز کی ہے۔
خواجہ عمران نے سی ای او ہیلتھ کو ضلعی انتظامیہ کیساتھ مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت کی۔
انھوں نے کہا کہ ایچ آر منیجمنٹ، والنٹیر ماڈل کو اپناتے ہوئے ڈینگی کا خاتمہ ممکن ہے، یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ کو انسداد ڈینگی کی کارروائیوں میں شامل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔
خواجہ سلمان رفیق نے کہا ڈینگی کی بوگس سرویلنس ناقابل برداشت ہے، عوام اپنےگھروں، دکانوں اور دیگر مقامات پر صفائی کویقینی بنائیں