بغیر سفارش گھر بنانے کیلئے قرضوں کا اجرا قابلِ تقلید مثال ہے، مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ بغیر سفارش گھر بنانے کے لیے قرضوں کا اجرا قابلِ تقلید مثال ہے۔
اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں مریم نواز نے کہا ہے کہ عوام سے کیا ایک اور وعدہ پورا کردیا۔
مریم نواز نے کہا ہے کہ اپنی چھت، اپنا گھر پراجیکٹ کا مقصد عوام کے لیے آسانی پیدا کرنا ہے، اپلائی کرنے والے ہر فرد کو سیاسی وابستگی سے بالا قرضے مل رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ عوام کے گھر بنانے کا ریکارڈ قائم کیا، اپنے ریکارڈ خود ہی توڑیں گے، قائد نواز شریف کا عوامی خدمت کا وژن عملی صورت اختیار کرچکا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ لوگوں نے جھوٹے نعرے لگائے مگر ہم نے عوام کے لیے گھر بنائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔