ڈی آئی خان: مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر اضافی سیکیورٹی تعینات
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان (ڈی آئی خان) میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر اضافی سیکیورٹی تعینات کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان: مولانا فضل الرحمان کے قافلے پر حملہ، وزیراعظم نے رپورٹ طلب کرلی
ترجمان کے مطابق مولانا فضل الرحمٰن کے آبائی گاؤں عبداخیل میں واقع رہائش گاہ پر فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کی ایک مکمل پلاٹون تعینات کر دی گئی ہے۔ یہ اقدام ممکنہ خطرات کے پیش نظر وفاقی حکومت کی ہدایت پر عمل میں لایا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف سی تعیناتی کا نوٹیفکیشن 29 جون کو اس وقت جاری کیا گیا جب وزیراعظم شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ہوئی، اس ملاقات کے بعد سیکیورٹی انتظامات میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: چمن: جے یو آئی رہنما حافظ حمداللہ کی گاڑی پر فائرنگ
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسجد محمود کو اغوا کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جس کے بعد سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اضافی سیکیورٹی ایف سی ڈی آئی خان سیکیورٹی خدشات مولانا فضل الرحمان وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اضافی سیکیورٹی ایف سی ڈی ا ئی خان سیکیورٹی خدشات مولانا فضل الرحمان وی نیوز مولانا فضل الرحمان ڈی ا ئی خان
پڑھیں:
مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں انٹیلیجنس بیسڈ مؤثر کارروائیاں جاری ہیں، مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے۔
سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد گرفتار کیے گئے، گرفتار دہشتگردوں میں سہولتکار سمیت مرد اور خواتین خودکش بمبار بھی شامل ہیں، کارروائی میں دہشتگردوں کےمتعدد ٹھکانے تباہ کر دیے گئے۔
علاقے میں سرچ اور کلیئرنس کارروائیاں جاری ہیں، سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل نگرانی برقرار ہے، دہشتگردوں کے ٹھکانوں سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود برآمد کرلیا گیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مستونگ کے علاقہ کھڈ کوچہ میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز تیز کر دیے گئے، دہشت گردی کے خاتمے اور علاقے میں امن و امان کے قیام تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔