پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم، 100 انڈیکس بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے نئے مالی سال کے دوسرے روز بھی شاندار تیزی کا مظاہرہ کیا اور 100 انڈیکس نے ایک لاکھ 30 ہزار پوائنٹس کی تاریخی حد عبور کر لی۔
صرف چار دنوں میں انڈیکس میں سوا آٹھ ہزار پوائنٹس کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو مارکیٹ کی غیر معمولی رفتار اور سرمایہ کاروں کے بلند اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
مارکیٹ میں مسلسل تیسرے دن ایک ارب سے زائد شیئرز کے سودے ہوئے، جب کہ کاروبار کے دوران انڈیکس نے ایک لاکھ 30 ہزار 545 پوائنٹس کا نیا ریکارڈ بھی قائم کیا۔
سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی اور مثبت رجحان کی بڑی وجوہات میں حالیہ بجٹ کی منظوری، آئی ایم ایف کی زرمبادلہ سے متعلق شرائط کی تکمیل، ٹیرف پر مذاکرات کے لیے پاکستانی ٹیم کی امریکہ میں موجودگی اور ملک میں مہنگائی کی شرح کا نو سال کی کم ترین سطح پر آ جانا شامل ہیں۔
ان عوامل نے سرمایہ کاری کے ماحول کو مستحکم کیا ہے اور ملکی معیشت کے بارے میں امید افزا تاثر کو تقویت دی ہے، جس کا براہِ راست اثر پاکستان اسٹاک مارکیٹ پر نظر آ رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔