’ذائقے سے بھرپور کوئٹہ کی سلیمانی کلیجی‘: جو ایک بار کھائے وہ بار بار آئے
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کی پہچان صرف اس کی سرد وادی یا خوبصورت مناظر ہی نہیں، بلکہ یہاں کے روایتی کھانوں کا منفرد اور سادہ مگر لذیذ ذائقہ بھی ہے۔ ان میں سلیمانی کیلجی کا ذکر کیے بغیر کوئٹہ کی اسٹریٹ فوڈ کی کہانی مکمل نہیں ہوتی۔
سلیمانی کیلجی کوئٹہ کا خاص اور روایتی اسٹریٹ فوڈ ہے جسے مقامی لوگ اولین ترجیح دیتے ہیں، بکرے یا بیل کی کلیجی کو سادہ مصالحوں، ٹماٹر، مرچ اور نمک کے ساتھ توے پر تیار کیا جاتا ہے۔ جب یہ کلیجی تیز آنچ پر بھنتی ہے تو اس کی مہک ہی گاہکوں کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہے۔
سلیمانی کیلجی بنانے والے اسد اللہ نے وی نیوز کو بتایا کہ ان کا یہ کاروبار ان کے والد نے 1960 کے قریب شروع کیا، جو آج بھی اپنے روایتی منفرد ذائقے کے ساتھ قائم و دائم ہے۔
اسد اللہ نے بتایا کہ کلیجی کی خاص بات اس کی سادگی ہے۔ بکرے کی کلیجی کو ٹماٹر، مرچ اور نمک لگا کر توے پر بھنا جاتا ہے۔ بعد ازاں اس پر کچا پیاز ڈالا جاتا ہے، جو اس کے ذائقے کو مزید بہتر بنا دیتا ہے۔۔ ’ہمارے گاہک کبھی شکایت نہیں کرتے کہ ذائقہ بدل گیا ہے، یہی ہمارا مان ہے۔‘
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے سلیمانی کیلجی کے شوقین داؤد خان نے بتایا کہ میں نے ایک بار سلیمانی کیلجی کھائی جس کے بعد میں اس کا دیوانہ ہوگیا۔ اب اکثر دوستوں کو بھی یہاں لے آتا ہوں اور انہیں کہتا ہوں کہ ایک بار ٹرائی کرو، اگر پسند نہ آئے تو پورا خرچہ میں دوں گا۔
کوئٹہ کی سڑکوں پر آتے جاتے لوگ سلیمانی کیلجی کے اسٹال کے پاس سے گزریں تو خوشبو انہیں کھینچ لیتی ہے۔ یہ نہ صرف مزدور طبقے، طلبہ اور دفتری ملازمین کی پسند ہے بلکہ یہاں آنے والے مسافر بھی اس کے ذائقے کے گرویدہ ہو جاتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسٹریٹ فوڈ بلوچستان خوشبو سلیمانی کلیجی منفرد ذائقہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹریٹ فوڈ بلوچستان سلیمانی کلیجی وی نیوز سلیمانی کیلجی کوئٹہ کی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔