الیکشن کمیشن کی "ووٹ بندی" جمہوریت کو برباد کردیگی، جے رام رمیش
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
کانگریس لیڈر نے کہا کہ کمیشن کو آئین کی روح اور اسکے تقاضوں کے مطابق کام کرنا چاہیئے، نہ کہ من مانی اصول بنا کر اپوزیشن کو نظرانداز کرے۔ اسلام ٹائمز۔ کانگریس پارٹی نے الیکشن کمیشن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ریاست بہار میں ووٹر لسٹ کے خصوصی گہرے جائزے (اسپیشل انٹینسیو ری ویزن- ایس آئی آر) کے خلاف آواز اٹھانے والے "انڈیا" اتحاد کے نمائندوں سے من مانی رویہ اختیار کر رہا ہے، جو جمہوری اقدار کے منافی ہے۔ کانگریس پارٹی کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے اس رویے کو جمہوریت کی بنیادوں کو کمزور کرنے والا قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہر پارٹی سے صرف دو نمائندوں کو ملاقات کی اجازت دی، جس کی وجہ سے کئی اہم رہنما کمیشن سے اپنی بات نہیں کہہ سکے۔ جے رام رمیش کے مطابق وہ خود تقریباً دو گھنٹے انتظار گاہ میں بیٹھے رہے لیکن ملاقات نہ ہو سکی۔
انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں طنز کرتے ہوئے لکھا کہ آخر اس نئے الیکشن کمیشن کے کتنے "ماسٹر اسٹروک" باقی ہیں۔ ان کے بقول جب وفد نے ان اصولوں کو من مانی اور مبہم کہا تو کمیشن کی جانب سے جواب دیا گیا کہ "یہ نیا کمیشن ہے"، جو مزید تشویش کا باعث ہے۔ "انڈیا" اتحاد کے مختلف جماعتوں کے نمائندے الیکشن کمیشن کے پاس اس لئے گئے تھے تاکہ بہار میں ووٹر لسٹ کے خصوصی جائزے کے وقت اور طریقہ کار پر اپنی تشویش کا اظہار کر سکیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس عمل کی وجہ سے بہار کے 20 فیصد ووٹرز ووٹ دینے سے محروم ہوسکتے ہیں۔ جے رام رمیش نے کہا کہ کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور اسے اپوزیشن کی بات سننے سے انکار کرنے کا اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن کو آئین کی روح اور اس کے تقاضوں کے مطابق کام کرنا چاہیئے، نہ کہ من مانی اصول بنا کر اپوزیشن کو نظرانداز کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کو سیاسی جماعتوں سے بات چیت کے لئے یہ طے کرنے کا اختیار نہیں ہونا چاہیئے کہ کتنے نمائندے آئیں گے، ان کے عہدے کیا ہوں گے یا وہ مجاز" ہیں یا نہیں۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ تمام جماعتوں کے نمائندوں سے بات چیت کے لئے دو دو افراد کی حد مقرر کی گئی تاکہ ہر پارٹی کے خیالات سنے جا سکیں۔ کمیشن نے واضح کیا کہ مستقبل میں وہ صرف جماعتی سربراہوں سے ملاقات کرے گا تاکہ بار بار اور غیر مجاز ملاقاتوں سے بچا جا سکے۔ جے رام رمیش کا کہنا ہے کہ گزشتہ چھ ماہ میں کمیشن کا رویہ مسلسل ایسا رہا ہے جو غیر جانبداری پر سوال اٹھاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ الیکشن کمیشن کو آئینی حدود کے اندر رہ کر کام کرنا چاہیے، ورنہ جمہوری عمل متاثر ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن کمیشن کو
پڑھیں:
لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی
لاہور: (ویب ڈیسک) بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی، لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔
نجی ٹی وی چینل’’ دنیا نیوز‘‘ کے مطابق ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہور کی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی، فہرست کےمطابق لاہور کو 9 ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔
ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں، 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائے گا، تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10 اگست 2026 کو جاری ہوگی۔
مزید :