2025 میں 8500 کاروباری ادارےسائبر حملوں کا نشانہ بنے، عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, July 2025 GMT
عالمی سائبر سیکیورٹی کمپنی کیسپر اسکائی نے انکشاف کیا ہے کہ 2025 کے دوران اب تک 8 ہزار 500 سے زائد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری صارفین ایسے سائبر حملوں کا شکار بنے جن میں ’نقصان دہ یا ناپسندیدہ سافٹ ویئر‘ کو مقبول آن لائن پروڈکٹیویٹی ٹولز کے طور پر پیش کیا گیا۔
کمپنی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کیسپر اسکائی نے کہا کہ چیٹ جی پی ٹی، مائیکرو سافٹ آفس، زوم اور ڈیپ سیک جیسے مقبول پلیٹ فارمز کا نام اور لوگو استعمال کر کے جعلی سافٹ ویئر تیار کیے گئے، جنہیں استعمال کرنے والے صارفین غیر ارادی طور پر وائرس یا میلویئرکا شکار ہو گئے۔
مزید کہا کہ تجزیہ کاروں نے اس بات کی کھوج کی کہ کتنی کثرت سے بدنیتی پر مبنی اور ناپسندیدہ سافٹ ویئر کو جائز ایپلی کیشنز کے طور پر دکھایا جاتا ہے، جو عام طور پر کاروباری ادارے استعمال کرتے ہیں۔
اعلامیے کے مطابق مجموعی طور پرکیسپر اسکائی نے 2025 میں مقبول ایپس کے بھیس میں 4 ہزار سے زیادہ منفرد نقصان دہ اور ناپسندیدہ فائلوں کا مشاہدہ کیا، اے آئی سروسز کی بڑھتی مقبولیت کے ساتھ سائبر حملہ آور تیزی سے میلویئر کو اے آئی ٹولز کے ذریعے ظاہر کررہے ہیں۔
مزید کہا گیا کہ چیٹ جی پی ٹی کی نقل کرنے والے سائبر خطرات کی تعداد میں 2025 کے پہلے چار مہینوں میں گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 115 فیصد اضافہ ہوا، جو 177 نئی نقصان دہ اور ناپسندیدہ فائلوں تک پہنچ گئے، اسی طرح 83 فائلز کو ایک اور مقبول اے آئی ٹول ڈیپ سیک کے طور پر پیش کیا گیا۔
کیسپر اسکائی میں سیکیورٹی ماہر واسیلی کولسنیکوف نے بتایا کہ اس بات کا امکان کہ حملہ آور میلویئر یا دیگر قسم کے ناپسندیدہ سافٹ ویئر کے بھیس کے طور پر کسی ٹول کو استعمال کرے گا، کا انحصار براہ راست سروس کی مقبولیت پر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی ٹول کے ارد گرد جتنی زیادہ تشہیر اور گفتگو ہوگی، اتنا ہی زیادہ امکان ہے کہ کوئی صارف انٹرنیٹ پر جعلی پیکج دیکھے گا۔
واسیلی کولسنیکوف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کی کمپنی کے ملازمین کو خبردار کیا کہ وہ انٹرنیٹ پر سافٹ ویئر تلاش کرتے وقت احتیاط برتیں، جب انہیں بہت اچھی سبسکرپشن ڈیلز کا سامنا ہوا، اور انہیں مشتبہ ای میلز میں ویب سائٹس اور لنکس کے درست اسپیلنگز کو چیک کرنے چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے معاملات میں، یہ لنکس نقصان دہ یا ممکنہ طور پر ناپسندیدہ سافٹ ویئر ڈاؤن لوڈ کرتے ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ 2025 میں مشہور ایپ زوم کے بھیس میں بدنیتی پر مبنی اور ناپسندیدہ سافٹ ویئر فائلوں کی تعداد میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا، جو ایک ہزار 652 تک پہنچ گئیں، جبکہ ’مائیکروسافٹ ٹیمز‘ اور ’گوگل ڈرائیو‘ جیسے ناموں میں بالترتیب 100 فیصد اور 12 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔
فرم نے کہا کہ تجزیہ کیے گئے نمونوں میں، سب سے زیادہ فائلوں نے زوم کی نقل کی، جو کہ پائی جانے والی تمام منفرد فائلوں کا تقریباً 41 فیصد ہے۔ مائیکروسافٹ آفس کی ایپلی کیشنز کی نقل کی جا رہی ہے، آؤٹ لک اور پاورپوائنٹ میں سے ہر ایک کا حصہ 16pc، ایکسل کا تقریباً 12pc، جبکہ Word اور Teams نے بالترتیب 9pc اور 5pc بنائے۔
اس نے مزید کہا کہ ڈاؤن لوڈرز، ٹروجن اور ایڈویئر 2025 میں SMBs کو نشانہ بنانے والے سب سے بڑے خطرات میں شامل تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اور ناپسندیدہ مزید کہا کہ کے طور پر
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔