بھارت دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کا گڑھ بن چکا:پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت دہشتگردی کے واقعات میں ملوث ہے اور افغانستان دہشتگردوں کا گڑھ بن چکا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں ایک بار پھر زور دیا ہے کہ افغانستان سے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی دہشت گردی ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
پاکستان نے ایک بار پھر عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور یہ دہشتگرد عناصر افغانستان کی سرزمین کو استعمال کر رہے ہیں۔
دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بارہا افغان حکام سے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے اور شواہد کے ساتھ یہ بات واضح کی ہے کہ دہشتگرد گروہ، جن کی پشت پناہی بھارت کر رہا ہے، افغانستان کے اندر موجود ہیں۔ یہ عناصر پاکستان کے مختلف علاقوں میں تخریبی کارروائیاں کرتے ہیں اور ان کی پشت پر بھارت کی منصوبہ بندی اور معاونت شامل ہے۔
ترجمان نے اس موقع پر بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر بھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ثالثی عدالت کے حالیہ ضمنی فیصلے نے بھارت کی غیر ذمہ دارانہ اور یکطرفہ پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ عدالت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اب بھی مکمل طور پر مؤثر ہے اور بھارت کو اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی کا حق نہیں۔
ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی تصدیق کرتا ہے کہ بھارت معاہدوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور خطے میں پانی کو بطور سیاسی ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی معاہدے کی پاسداری کرے اور سندھ طاس معاہدے کو معمول کے مطابق جاری رکھے، کیونکہ یہ دونوں ممالک کے درمیان طویل المدتی امن اور ہم آہنگی کے لیے ضروری ہے۔
دفتر خارجہ نے بریفنگ میں بتایا کہ یکم جولائی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان قیدیوں کی سالانہ فہرستوں کا تبادلہ عمل میں آیا۔ پاکستان نے 246 بھارتی قیدیوں کی تفصیلات نئی دہلی میں بھارتی ہائی کمیشن کے حوالے کیں، جب کہ بھارت نے بھی پاکستانی قیدیوں کی فہرست اسلام آباد میں پاکستانی حکام کو فراہم کی۔ دفتر خارجہ نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستانی قیدیوں کی حفاظت اور انسانی حقوق کو یقینی بنائے۔
اس کے ساتھ ساتھ ترجمان نے اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 17ویں سربراہی اجلاس کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اہم اجلاس آذربائیجان کے تاریخی شہر میں منعقد ہوا، جس میں وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستانی وفد کی قیادت کی اور علاقائی تعاون، موسمیاتی تبدیلی اور توانائی جیسے اہم معاملات پر پاکستان کا مؤقف بھرپور انداز میں پیش کیا۔ اجلاس کی سائیڈ لائنز پر وزیراعظم کی دیگر علاقائی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی شیڈول ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے حال ہی میں ترکی کے نائب وزیراعظم سے بھی رابطہ کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے سفارتی رابطوں میں تیزی آ رہی ہے اور ترکی کے وزیر خارجہ کا جلد پاکستان کے دورے کا امکان ہے، جس کی تفصیلات دفتر خارجہ جلد جاری کرے گا۔
آخر میں ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے، مگر دہشتگردی جیسے بنیادی مسئلے کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اگر افغان حکومت واقعی خطے میں امن چاہتی ہے تو اسے اپنی سرزمین سے دہشتگرد عناصر کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ یہی عناصر پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دفتر خارجہ نے پاکستان کے قیدیوں کی ہے اور کے لیے
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب