data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

فلکیاتی تحقیق کے میدان میں ایک غیر معمولی دریافت نے سائنس دانوں کو نئی حیرت میں ڈال دیا ہے۔

جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے ذریعے ماہرین نے ایک ایسی کہکشاں دریافت کی ہے جو تقریباً 13 ارب سال سے اپنی ابتدائی حالت میں ’منجمد‘ہے۔ اسے فلکیاتی اصطلاح میں ایک ’relaxed fossil galaxy‘ کہا جا رہا ہے ،یعنی ایسی کہکشاں جس میں وقت کے ساتھ کوئی بڑی تبدیلی یا ارتقائی سرگرمی نہیں ہوئی۔

اس کہکشاں کا نام JADES-GS-z7-LA رکھا گیا ہے اور یہ اس دور سے تعلق رکھتی ہے جب کائنات کی عمر محض 70 کروڑ سال تھی، یعنی اس کا تعلق کائنات کے بالکل ابتدائی دور سے ہے۔ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ جیسی طاقتور مشینری کی بدولت سائنس دانوں کو پہلی مرتبہ ایسی کہکشاں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا جو وقت کی گردش سے تقریباً بے نیاز رہی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ JADES-GS-z7-LA میں ستاروں کی پیدائش کی سرگرمی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی موجودہ ساخت، حرارت اور بیرونی حجم میں گزشتہ اربوں سالوں کے دوران کوئی خاص تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی، جو فلکیاتی دنیا میں ایک نادر مثال ہے۔ گویا یہ کہکشاں ایک ’کاسمک فوسل‘ہے، جو کائناتی ماضی کا زندہ نمونہ بن کر رہ گئی ہے۔

عام طور پر کہکشائیں وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی ہیں، ان میں نئے ستارے بنتے ہیں، پرانے تباہ ہوتے ہیں اور دوسرے کہکشاؤں سے تصادم یا کشش کے نتیجے میں ان کی شکل اور مادے میں تبدیلی آتی رہتی ہے، لیکن JADES-GS-z7-LA اس ارتقائی سائیکل سے تقریباً مکمل طور پر الگ تھلگ رہی۔ نہ تو اس میں نئی ستاروں کی تشکیل دیکھی گئی اور نہ ہی اس پر کسی دوسری کہکشاں کا اثر یا تصادم ہوا۔

سائنس دانوں کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ماہرین فلکیات اسے کائناتی وقت میں ’’منجمد‘‘کہکشاں قرار دے رہے ہیں۔ ایک ایسی حالت جہاں تبدیلی یا ترقی کا عمل بالکل سست یا مکمل طور پر رُک چکا ہو۔

اس غیرمعمولی دریافت کا سہرا ناسا کی جدید ترین اور حساس ترین خلائی دوربین جیمز ویباسپیس ٹیلی اسکوپ کے سر جاتا ہے۔ یہ دوربین خاص طور پر کائنات کے ابتدائی دور کے مشاہدے کے لیے تیار کی گئی ہے اور اس کی مدد سے سائنس دان اربوں نوری سال دور اجسام کو دیکھنے کے قابل ہو گئے ہیں۔

جیمز ویب کی مدد سے حاصل ہونے والی تصویریں اور ڈیٹا فلکیات کے میدان میں ایک انقلاب سے کم نہیں۔ JADES-GS-z7-LA جیسی کہکشائیں نہ صرف ہماری موجودہ معلومات میں وسعت پیدا کرتی ہیں بلکہ کائنات کی تشکیل اور اس کے ارتقائی سفر کے کئی رازوں سے پردہ بھی اٹھاتی ہیں۔

JADES-GS-z7-LA کی دریافت فلکیاتی سائنس کے لیے بہت اہم ہے کیونکہ یہ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کائناتی ارتقا ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ کہکشائیں انتہائی فعال اور متحرک ہوتی ہیں، جب کہ کچھ مخصوص حالات میں بالکل خاموش اور غیرمتحرک رہ سکتی ہیں۔ اس دریافت سے ماہرین اس نکتے پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کیا کچھ کہکشائیں پیدائش کے فوراً بعد ہی مر جاتی ہیں؟

سائنس دانوں کے لیے اب اگلا مرحلہ یہ جاننا ہے کہ آخر JADES-GS-z7-LA جیسی کہکشاں کس وجہ سے ارتقائی سرگرمیوں سے محروم رہی؟ کیا اس میں مادے کی کمی تھی؟ یا پھر ابتدائی کائنات میں ہی کچھ ایسے عوامل موجود تھے جو اس کی تبدیلی کا عمل روک گئے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میں ایک

پڑھیں:

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں میڈیا انڈسٹری، پیکا قوانین اور صحافیوں کے فلاحی امور سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر عبدالشکور، سینیٹر سید وقار مہدی، سینیٹر پرویز رشید اور سینیٹر جان محمد نے شرکت کی۔

کمیٹی کو این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔

چیئرمین یورپی یونین پاک فرینڈشپ فیڈریشن یورپ کی ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے چیئرمین سے ملاقات

کمیٹی نے فلم "بلھا" میں حضرت بابا بلھ شاہ کے امن کے پیغام کی مبینہ غلط ترجمانی کا بھی نوٹس لیا، اور مشاہدہ کیا کہ فلم نے معروف صوفی بزرگ کی پرامن تعلیمات کو مرکزی کردار کے ذریعے تشدد اور بندوقوں سے جوڑ کر مسخ کیا ہے۔ اراکین نے اس بنیاد پر سوال اٹھایا کہ سینٹرل بورڈ آف فلم سنسرز نے اس فلم کی منظوری کس طرح دی۔ اگرچہ سنسر بورڈ کے چیئرمین نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ فلم پنجاب اور سندھ کے سنسر بورڈز سے بھی منظور شدہ ہے، تاہم کمیٹی نے اس توجیہہ کو مسترد کر دیا۔ اراکین نے سنسر بورڈ کے ارکان کی تقرری کے معیار پر بھی سوال اٹھایا اور وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس طرح کی تقرریوں کے لیے ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار وضع کرے۔

پی سی بی نے ڈومیسٹک کرکٹ کے نئے سیزن کا شیڈول جاری کر دیا

تفصیلی غوروخوض کے بعد، کمیٹی نے سفارش کی کہ فلم "بلھا" کے پروڈیوسرز کو کہا جائے کہ وہ اس کا نام تبدیل کریں اور وہ قابلِ اعتراض مکالمہ ہٹائیں جس میں مرکزی کردار نے خود کا موازنہ بابا بلھ شاہ سے کیا ہے، بصورت دیگر فلم کی ریلیز پر پابندی عائد کی جائے جس میں یوٹیوب سے اس کا ممکنہ اخراج بھی شامل ہو۔

کمیٹی کو وفاقی حکومت کے ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کی طرف سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لیے فلیٹس اور پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ میڈیا ورکرز کے کوٹے کے تحت الاٹمنٹ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ صحافیوں کے کوٹے سے متعلق مسائل ابھی تک حل طلب ہیں۔ اس طویل تاخیر پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے، کمیٹی نے اپنی سفارشات پر عمل درآمد کی نگرانی اور مسئلے کے حل کو آسان بنانے کے لیے سینیٹرز پرویز رشید، وقار مہدی اور عبدالشکور پر مشتمل ایک مانیٹرنگ سب کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا۔

سینیٹر سرمد علی نے وزارت اطلاعات و نشریات کو ہدایت کی کہ معاملے کا جائزہ لینے، موجودہ پالیسی پر نظرثانی کرنے اور ایک ماہ کے اندر الاٹمنٹس کا فیصلہ کرنے کے لیے ایک ہفتے کے اندر صحافیوں کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا جائے۔ کمیٹی نے مستقبل کی ہاؤسنگ سکیموں میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے کوٹے میں اضافے کی بھی سفارش کی اور ایک مخصوص ہاؤسنگ لون سکیم متعارف کرانے یا موجودہ وفاقی حکومت کے ہاؤسنگ فنانس کے اقدامات کے تحت صحافیوں کو ترجیح دینے کی تجویز دی۔

پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) نے بھی کمیٹی کو علاقائی اخبارات کے اشتہاری کوٹے کے بارے میں بریفنگ دی۔ حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ موجودہ پالیسی کے تحت سرکاری اشتہارات کا 25 فیصد حصہ علاقائی اخبارات کے لیے مخصوص ہے۔ تاہم، اراکین نے اس پالیسی پر عمل درآمد نہ ہونے کی شکایات کا نوٹس لیا، خاص طور پر سندھ اور بلوچستان سے۔ قائم مقام چیئرمین نے پی آئی ڈی کو ہدایت کی کہ وہ 25 فیصد کوٹے کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے، جس میں عوامی سطح پر معلومات کی ترسیل میں ان کے اہم کردار کے اعتراف میں لسانی اخبارات بھی شامل ہوں۔

کمیٹی نے ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کو درپیش مسائل پر بھی مزید تبادلہ خیال کیا۔ یہ بتایا گیا کہ 353 کمیوٹیشن کیسز تحال زیر التوا ہیں اور ریڈیو پاکستان وفاقی حکومت کے گران্ট-اِن-ایڈ کے ذریعے چل رہا ہے۔ حکام نے کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وزیراعظم پہلے ہی ریڈیو پاکستان، پی ٹی وی اور اے پی پی سے متعلقہ بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے چکے ہیں۔ قائم مقام چیئرمین نے ہدایت کی کہ ریڈیو پاکستان کے پنشنرز کے مطالبات بھی وزیراعظم کی کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں اور اس معاملے کے جلد از جلد حل کا مطالبہ کیا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا