وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہاہے کہ ایسی باتیں بنانا کہ نوازشریف جیل جائیں گے،وہ وہاں پر لائن میں لگ کرملاقات کریں گےیہ طریقہ نہیں، نوازشریف سینئر سیاستدان ہیں،ان کے بارےمیں ایسا کہنا یہ کیا طریقہ ہے، ، پارلیمنٹرین کی تنخواہ 9سال تک نہیں بڑھائی گئی ،اب اپ ڈیٹ کی گئی ہے، مختلف اداروں کے افسران کی تنخواہوں کو دیکھیں تو ابھی بھی فرق ہے۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے نجی ٹی وی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں اس وقت پاکستان اپنی بہترین پوزیشن میں ہے، ملک میں پولٹیکل لیڈرشپ کی ہمیشہ کشمکش رہی ہے، 2013سے 18 تک ہم نے حکومت کی مگر کرنے نہیں دی گئی ، ہم ملک کوکافی حدتک درست کرنے میں کامیاب رہے، اس وقت یہ پوزیشن نہیں ہے، سیاسی قیادت اوراسٹیبلشمنٹ قیادت اس پر متفق ہےکہ بحران کا خاتمہ ہو، آپ نے ان 4 روزمیں اپناآپ ثابت کردیا۔
رانا ثناء اللہ کا کہناتھا کہ ہم دنیا میں سرخرو ہوئے ہیں،ہم نے خود کو ایک طاقت ثابت کیا ہے، ہر کوئی آپ کی مدد کرنے اور تعاون کرنے کو تیار ہے، یہ موقع ہمارے لیےآخری ہو گا کہ بطور قوم ہم خود کو سنبھالیں، دفاع بہتر ہے،مزید ایڈوانس اسٹیجز پر لے کر جائیں،معیشت کو بہتر کریں، یہ اقدامات کریں پھرجنہوں نے ملک کو اس مقام تک پہنچایا حساب کتاب چلتا رہے گا، سول اداروں کی ماں پارلیمنٹ ہے ، ہم پارلیمنٹ کو ہی بہتر طور پر نہیں بنا سکے، ہمیں چاہیے کہ ہم آگے بڑھیں، میری بات مان لیں کےآگے چلیں،پچھلےحساب کے خلاف نہیں ہوں، میرا اپنا پچھلا حساب باقی ہے۔
رانا ثناء اللہ کا کہناتھا کہ دفاع کوناقابل تسخیر بنا دیا ہے اب معیشت کو درست بنانے کیلئے لگے ہیں، اب آگے چلنے سے کوئی نہیں روک رہا، سیاسی طاقتوں میں وہ ہم آہنگی جو پارلیمانی سسٹم میں ضروری ہے وہ نہیں ہے، وہ خرابی 2011سے شروع ہوئی ہے ایک صاحب کی طرف سے درست نہیں ہو رہی، وزیراعظم اپوزیشن سیٹوں پر گئے ان کا شکریہ ادا کیا تھا، وزیراعظم نے کہا ملک ،پارلیمنٹ کی بہتری کیلئے بیٹھنا چاہیے اور بات کرنی چاہیے، وزیراعظم نے اپوزیشن کو 3 بارآفر کی ہے کہ بیٹھیں اور بات کریں۔
انہوں نے کہا کہ کیاشہبازشریف نے نوازشریف کی منظوری کے بغیر کہا ہوگا ؟ شہبازشریف نے جو کچھ بھی کہا ہے وہ نوازشریف کی اپرول سے کہا ہے، ایسی باتیں بنانا کہ نوازشریف جیل جائیں گے،وہ وہاں پر لائن میں لگ کرملاقات کریں گےیہ طریقہ نہیں، نوازشریف سینئر سیاستدان ہیں،ان کے بارےمیں ایسا کہنا یہ کیا طریقہ ہے۔
ان کا کہناتھا کہ پارلیمنٹرینز، وزرا کا گریڈ 22 کے برابر اسٹیٹ بنتا ہے، دیکھا جائے اس وقت گریڈ 22 کے افسران کیا لے رہے ہیں، اس میں پھرسب کا ذکرآجاتا ہے جو کہ مناسب نہیں ہے ، پارلیمنٹرین کی تنخواہ 9سال تک نہیں بڑھائی گئی ،اب اپ ڈیٹ کی گئی ہے، مختلف اداروں کے افسران کی تنخواہوں کو دیکھیں تو ابھی بھی فرق ہے، ساراملبہ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ پر نہیں گرنا چاہیے، اس لیول سے نیچے کوئی کام کرنے کو تیار نہیں۔
ان کا کہناتھا کہ اینکرز 6 سے 11 بجےتک پوری دنیا کو تڑپاتے ہیں یہ کیا لے رہے ہیں؟، ان میں سے بعض 25 سے 40 لاکھ تک لے رہےہیں، پرائیوٹ اور پبلک سیکٹر اکھٹے چلتے ہیں، اگر ایک پرائیوٹ ادارے کاسربراہ جو تنخواہ لیتا ہے وہی تقاضا ایف بی آرسربراہ اور دیگر تقاضا کرتے ہیں۔

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: رانا ثناء اللہ

پڑھیں:

شہدا ء کا مقام اور فضیلت

جے یو آئی کے قصور شہرمیں غیر متوقع طور پر بہت بڑے پاور شو اور عوامی اجتماع نے جہاں پنجاب کی سیاست میں ایک نئی روح پھونکی اور دہائیوں پر محیط روایتی سیاسی و غیر سیاسی مہروں کے متبادل ایک نئی عوامی طاقت کا احساس دلایا، وہاں اس جیتی جاگتی تبدیلی سے خائف حلقوں نے ہمیشہ کی طرح ایک فرسودہ اور ہتک آمیز حربہ اختیار کیا۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ایک بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کرتے ہوئے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کی ناکام کوشش کی گئی اور یہ گمراہ کن پروپیگنڈا گھڑا گیا کہ انھوں نے معاذ اللہ فوجی جوانوں کے لیے "شہادت کی تنخواہ" کے الفاظ استعمال کیے، حالانکہ ان کا مدعا و مقصد ہر گز یہ نہیں تھا۔ مولانا نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی عقلی اور اصولی نکتہ واضح کیا تھا۔ اصل میں اس گفتگو کا بنیادی محور قبائلی علاقوں میں مقامی لشکروں کی تشکیل تھا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس گفتگو کا درست مفہوم سیاسی مخالفین کو تو سمجھ آگیا لیکن سوشل میڈیا کے کارندوں کو سمجھ نہ آیا کیونکہ جان بوجھ کر منفی مطلب نکالنا ان کا شیوا ہے۔ یہاں ایک بنیادی اور تلخ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شہادت کا رتبہ، جہاد کی فضیلت اور شہید کا مقام کیا ہوتا ہے، یہ دینِ اسلام کے اسرار و رموز سے واقف، پوری زندگی قال اللہ و قال الرسول کی صدائیں بلند کرنے والا ایک جید عالمِ دین بہتر جانتا ہے یا پھر سوشل میڈیا کے مجاہدین۔ یہ پاکستان کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ ملک کے ممتاز ترین عالمِ دین کو شہادت کی عظمت پر لیکچر دیئے جا رہے ہیں۔

ناقدین کو شاید یہ معلوم ہی نہیں کہ شہادت ایک شرعی اور دینی اصطلاح ہے، جس کا تقدس اور حقیقی مرتبہ علماء ہی جانتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود ہزاروں شہداء کے وارث ہیں۔

1857کی جنگ آزادی میں حضرت حافظ محمد ضامن شہیدؒ سمیت کلکتہ سے پشاور تک پھانسیوں پر لٹکائے جانے والے 51 ہزار علماء ان کے ہی اکابر تھے۔ پاکستان میں سیکڑوں کی تعداد میں شہید کیے جانے والے علماء، جن میں شیخ المشائخ مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ، مولانا سید شمس الدین شہیدؒ، مولانا حق نواز شہیدؒ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان شہیدؒ، شیخ الحدیث مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ، مفتی جمیل خان شہیدؒ، مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو شہیدؒ اور دیگر بے شمار شخصیات شامل ہیں، ان کے جماعتی کارکن، دوست اور دست و بازو تھے، جن کو دن دہاڑے اس لیے شہید کیا گیا کہ وہ ریاست و آئین پاکستان کے ساتھ کھڑے تھے اور ان میں سے آج تک کسی ایک کے قاتل کو نہیں پکڑا گیا۔ جو شخص اور جو جماعت خود شہداء کی امین ہو، وہ بھلا شہداء کی توہین کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟ قصور جلسہ کے ایک لفظ کو مسخ کر کے پہاڑ بنانے والوں کا یہ وقتی ابال بہت جلد بیٹھ جائے گا۔ تمام زندگی بلامعاوضہ ملک و ملت کی خدمت کرنے والے، مدارس و مساجد کی حفاظت کے لیے دن رات ایک کرنے والے، قبائل کے لوگوں کو بغاوت سے بچانے والے اور مسلح دہشت گردوں کے خلاف ریاست کے لیے خود کش حملے، دھمکیاں اور گالیاں برداشت کرنے والے زیرک رہنما کو غدار قرار دینا نا مناسب ہے۔

اسلام میں شہید کا مقام و مرتبہ انتہائی بلند اور منفرد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شہیدوں کی عظمت کو اتنے ارفع انداز میں بیان کیا ہے کہ انھیں مردہ کہنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ سورہ البقرہ اور سورہ آل عمران میں واضح فرمایا گیا کہ "جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، انھیں مردہ نہ کہو اور نہ ہی ایسا گمان کرو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انھیں رزق بھی دیا جا رہا ہے اور وہ اللہ کے اس فضل پر جو انھیں عطا کیا گیا ہے، انتہائی خوش اور مسرور ہیں"۔ یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ شہید کی زندگی عام اموات جیسی نہیں ہوتی بلکہ وہ برزخ میں ایک خاص قسم کی حیاتِ طیبہ اور انعاماتِ الٰہی سے سرفراز ہوتے ہیں۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی شہید کے بے پناہ فضائل کا ذکر ملتا ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اللہ کے نزدیک شہید کی خاص خصوصیات ہیں، خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی اس کی مغفرت کر دی جاتی ہے، اسے جنت میں اس کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے، اسے عذابِ قبر اور قیامت کی بڑی گھبراہٹ سے پناہ ملتی ہے، اس کے سر پر وقار کا ایسا تاج رکھا جائے گا جس کا ایک یاقوت دنیا اور مافیہا سے بہتر ہے اور اس کی اپنے اقارب میں سے ستر لوگوں کے لیے شفاعت قبول کی جائے گی"۔ کائنات کی سب سے عظیم ہستی حضرت محمد ﷺ کا شہادت کی بار بار تمنا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں شہادت کا مقام کتنا عظیم ہے۔ شہید کو یہ انفرادیت بھی حاصل ہے کہ جنت میں جانے کے بعد کوئی بھی شخص دنیا میں دوبارہ لوٹنے کی خواہش نہیں کرے گا، سوائے شہید کے، جو وہاں ملنے والے اکرام کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش اسے دنیا میں دس بار واپس بھیجا جائے تاکہ وہ بار بار اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کر سکے۔

احادیث کے مطابق شہید کو موت کی تکلیف اتنی ہی محسوس ہوتی ہے جتنی کسی انسان کو چیونٹی کے کاٹنے سے ہوتی ہے اور قیامت کے دن اس کے زخموں سے بہنے والے خون سے مشک کی خوشبو آئے گی۔قرآن و حدیث کی رو سے شہید کا درجہ انبیاء، صدیقین اور صالحین کے بالکل متصل ہے اور یہ اہل علم ہی جانتے ہیں لہٰذا سیاسی مقاصد کے لیے پاک صاف دامن پر چھینٹیں پھینکنے والے یاد رکھیں کہ مکافاتِ عمل کا نظام عنقریب پلٹا کھائے گا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نعروں، الزامات اور مذمتوں کی اس تعفن زدہ سیاست کو اب بند کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم