data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

دبئی: پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ بلاول زرداری کاکہنا ہے کہ اگر بھارت واقعی دہشت گردوں کے خلاف مؤثر کارروائی چاہتا ہے تو اسے پاکستان سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا تاکہ باہمی مسائل کا پائیدار حل تلاش کیا جا سکے۔

بلاول زرداری نے واضح کیا کہ ہم نان اسٹیٹ ایکٹرز کے ہاتھوں میں ایک ارب 70 کروڑ لوگوں کا مستقبل نہیں دے سکتے، بھارت نے پچھلے دہشت گرد حملوں کے بعد نہ تو اپنے شہریوں کے ساتھ شواہد شیئر کیے نہ پاکستان اور نہ ہی عالمی برادری کے ساتھ، اس کے برعکس پاکستان خود دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ رہا ہے۔

بلاول نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے تاریخی مؤقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح سے لے کر آج تک پاکستان کا یہی مؤقف رہا ہے کہ کشمیر پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے، پاکستان کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہے، اور یہ مؤقف ہرگز دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ بھارت میں کوئی مسلمان اگر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو اسے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، مقبوضہ کشمیر میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے، جہاں کشمیریوں کو ان کی جائز جدوجہد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ 1980 کی دہائی میں پاکستان نے افغانستان کے تناظر میں بعض گروپس کی حمایت کی تھی، تاہم کشمیر کے تناظر میں پاکستان نے کبھی کسی دہشت گرد گروہ کی سرپرستی نہیں کی۔ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ سے پرامن اور سیاسی حل پر مبنی رہا ہے۔

بلاول نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مستقل کشیدگی نہ صرف خطے کے لیے خطرناک ہے بلکہ دونوں ممالک کی اقتصادی، معاشرتی اور سلامتی پالیسیوں کو بھی متاثر کر رہی ہے، اگر بھارت خطے میں امن، ترقی اور استحکام چاہتا ہے تو اسے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہونا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟