ڈی جی خان: پولیس اور سی ٹی ڈی کی کارروائی میں 5 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 5th, July 2025 GMT
ڈی جی خان: تونسہ میں پولیس مقابلے کے دوران 5 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
پولیس کے مطابق پولیس اور سی ٹی ڈی کا دہشتگردوں سے مقابلہ پنجاب خیبرپختونخوا سرحدی علاقے میں ہوا جہاں فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی کو شاباش دی۔
مریم نواز نے کہا کہ پنجاب پولیس اور سی ٹی ڈی 5 دہشتگردوں کو جہنم واصل کرنے پر تحسین کی مستحق ہیں، دہشتگردوں کا تعاقب جاری رہے گا اور دشمن کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیں گے۔
دوسری جانب ڈی آئی خان کے علاقے کلاچی میں بھی سی ٹی ڈی اورپولیس نے کارروائی کرتے ہوئے انتہائی مطلوب دہشتگرد کو ہلاک کردیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی تحصیل کلاچی کے علاقے گرہ گلداد میں کی گئی، دہشت گرد بن یامین کے سرکی قیمت 40 لاکھ روپے مقرر تھی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پولیس اور سی ٹی ڈی
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک