ہندی زبان کو لازم قرار دینے کی مخالفت میں راج اور ادھو ٹھاکرے کا ’مراٹھی شناخت‘ کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
2 دہائیوں بعد راج ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے ایک مرتبہ پھر ایک ساتھ نظر آئے، جب انہوں نے ممبئی کے علاقے ورلی میں منعقدہ ’آواز مراتھیچا‘ (مراٹھی کی آواز) نامی مشترکہ فتح ریلی میں شرکت کی۔ یہ ریلی ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولوں میں ہندی کو لازمی بنانے کے فیصلے کے خلاف عوامی ردعمل کا اظہار اور ’مراٹھی شناخت‘ کے دفاع کی علامت بنی۔
راج ٹھاکرے، جو مہاراشٹرا نو نرمان سینا (MNS) کے سربراہ ہیں، نے سوال اٹھایا کہ جب پورا ہندی بولنے والا بھارت ہمارے پیچھے کھڑا ہے، تو ہمیں زبردستی ہندی سکھانے کی کیا ضرورت ہے؟۔ ادھو ٹھاکرے، شیو سینا (UBT) کے سربراہ، نے واضح کیا کہ ہندی کو ریاست میں لازمی نہیں بنایا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: جاویر اختر جہنم میں کیوں جانا چاہتے ہیں؟ وجہ بتا دی
ریلی کے اثرات جلد سامنے آئے، اور وزیراعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اپریل میں جاری کیے گئے متنازع حکومتی احکامات (GRs) واپس لے لیے۔ حکومت نے ماہرین پر مشتمل کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو زبانوں کے نفاذ کے معاملے پر نظر ثانی کرے گی۔
سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس تاریخی یکجہتی نے نہ صرف مراٹھی عوام کو زبان و ثقافت کے تحفظ کے لیے نیا حوصلہ دیا ہے بلکہ مقامی بلدیاتی انتخابات سے قبل دونوں جماعتوں کے ممکنہ اتحاد کا اشارہ بھی دے دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ریلی مہاراشٹر میں ’مراٹھی شناخت‘ کی جدوجہد کا نیا موڑ ہے، جو ثابت کرتی ہے کہ زبان، ثقافت اور خودمختاری جیسے مسائل اب ریاستی سیاست کے مرکز میں آ چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادھو ٹھاکرے بھارت راج ٹھاکرے مراٹھی زبان ممبئی ہندی زبان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادھو ٹھاکرے بھارت راج ٹھاکرے مراٹھی زبان
پڑھیں:
طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) پنجاب حکومت نے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے آئندہ مالی سال میں 50ہزار الیکٹرک بائیکس اور 5 ہزار الیکٹرک ٹیکسیاں بلاسود فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومتی ذرائع کے مطابق الیکٹرک بائیکس اور ای ٹیکسیوں کی بلاسود فراہمی کی تجویز کو آئندہ بجٹ میں شامل کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کو سستی اور ماحول دوست سفری سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب بلال اکبر خان کے مطابق ای ٹیکسی اسکیم کے تحت مستحق افراد کو آسان اقساط اور بلاسود فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جائے گی جبکہ رجسٹریشن سمیت مختلف مراعات بھی دی جائیں گی۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
بلال اکبر خان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے سے ہزاروں نوجوانوں کو روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے اور الیکٹرک ٹرانسپورٹ کے فروغ سے ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے میں بھی مدد ملے گی۔حکومت کی جانب سے اس اسکیم کی مزید تفصیلات اور اہلیت کے معیار آئندہ بجٹ اور پالیسی دستاویزات میں جاری کیے جانے کا امکان ہے۔