پہلی بار حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک ساتھ ہیں( وزیر داخلہ)
اشاعت کی تاریخ: 6th, July 2025 GMT
بعض لوگوں کو تکلیف ہے کہ ہم سب اکٹھے کیوں ہیں،سوشل میڈیا کی خبروں پر دھیان نہ دیں، مذہبی منافرت،فرقہ وارانہ بیانات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی
سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائیگی،محسن نقوی کا صدر مملکت کو ہٹائے جانے سے متعلق زیر گردش خبروں پر رد عمل،سکھر میںمیڈیا سے گفتگو
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے صدر مملکت آصف علی زرداری کو ہٹانے سے متعلق سوال پر رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ اکٹھی ہے تو کچھ لوگوں کو تکلیف ہے، سوشل میڈیا کی خبروں پر دھیان نہ دیں۔سکھر میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہاکہ مذہبی منافرت اور فرقہ وارانہ بیانات پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیزی برداشت نہیں کی جائے گی، ملک میں امن و امان برقرار رکھنا ہماری اولین ترجیح اور فتنہ الہندوستان کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے فورسز چوکنا ہیں، امید ہے کہ حکومتی اقدامات اور سیکیورٹی اداروں کی شبانہ روز محنت سے عاشورہ پر امن طور پر گزرے گا۔محسن نقوی نے کہا کہ آج ملک بھر میں 2700 جلوس نکالے جا رہے ہیں، ملک بھر میں سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات ہیں، سیکیورٹی اداروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، سکھر میں آج پاکستان کا سب سے بڑا جلوس نکالا جارہا ہے، پاکستان کے سب سے بڑے جلوس کو ہینڈل کرنے کا کریڈٹ پوری ٹیم کو جاتا ہے، خیریت سے شام تک سارے جلوس ختم ہوجائیں گے۔صحافی نے سوال کیا کہ افواہیں کہ آصف زرداری کوبطور صدر ہٹایا جارہا ہے اورنئی ترمیم لائی جارہی ہے؟ جس پر وزیر داخلہ نے کہا کہ میری درخواست ہے کہ محرم الحرام میں سیاست نہ کریں تو بہت اچھی بات ہے، سوشل میڈیا کی خبروں پر بالکل دھیان نہ دیں، بعض لوگوں کو تکلیف ہے کہ ہم سب اکٹھے کیوں ہیں۔انہوں نے کہاکہ پہلی بار سیاسی قیادت اور اسٹیبلشمنٹ اکٹھی ہے تو کچھ لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے، سب اکٹھے ہیں اس لیے جن لوگوں کو تکلیف ہورہی ہے وہ ایسی باتیں کررہے ہیں۔صحافی نے سوال کیا کہ کیا سندھ کے اضلاع شکارپور،کشمور،کندھ کوٹ کے حالات کی اطلاع وفاقی حکومت کونہیں ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ ہمیں اطلاع ہے اور جس طرح کے پی میں دہشت گردوں کو ماربھگایا ہے، ڈاکوئوں کا بھی بندوبست کرلیں گے، ڈاکوئوں کا بندوبست وفاقی حکومت اورصوبائی حکومتیں مل کریں گی۔قبل ازیں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے محرم الحرام کی مناسبت سے پاکستان کے سب بڑے و 500 سال قدیمی جلوس کا دورہ کیااور جلوس کے لیے کیے گئے انتظامات دیکھے ۔ انہوں نے پاکستان کے سب سے بڑے جلوس کے لئے کیے گئے انتظامات پر وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ۔سول انتظامیہ۔ سکھر پولیس اور رینجرز کے بہترین اقدامات کو سراہا۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے قدیمی جلوس کے مختلف حصوں کا وزٹ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: داخلہ محسن نقوی نے لوگوں کو تکلیف سوشل میڈیا وزیر داخلہ نے کہا
پڑھیں:
روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔
بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔
افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں