یورپی یونین تجارتی معاملات کا’’مصالحتی کوڈ‘‘، عالمی تجارت کے لئے بہترین حوالہ WhatsAppFacebookTwitter 0 7 July, 2025 سب نیوز

بیجنگ :چین کی وزارت تجارت نے یورپی یونین کی جانب سے درآمد کردہ مخصوص مشروبات کے خلاف اینٹی ڈمپنگ تحقیقات پر حتمی فیصلے کا اعلان کیا ، جس کے مطابق 5 جولائی سے یورپی یونین میں تیار کیے جانے والے درآمد شدہ مخصوص مشروبات پر پانچ سالہ اینٹی ڈمپنگ اقدامات نافذ کیے گئے۔ چینی تحقیقاتی اتھارٹی نے یورپی یونین کے 34 اداروں کی درخواستوں کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے جنہوں نے پہلے رضاکارانہ طور پر “پرائس انڈرٹیکنگ” کی درخواستیں جمع کرائی تھیں اوران پر اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹی عائد نہیں کی جائےگی۔چونکہ ان 34 کمپنیوں کی جانب سے چین کو برآمد کیے جانے والے مخصوص مشروبات یورپی یونین کی برآمدات کی بڑی اکثریت ہے ،لہذا چین کے فیصلے سے نہ صرف تقریباً 20 ماہ سے جاری اس کشیدہ تجارتی تنازعے کو حل کیا گیا ہے ، بلکہ یہ چین اور یورپی یونین کے مابین بات چیت اور مشاورت کے ذریعے عملی حل کا ایک ماڈل بھی بن گیا ہے۔

اسی روز فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے پیرس میں سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے پولیٹیکل بیورو کے رکن اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای سے ملاقات کے موقع پر بھی تنازعے کے حل کے لیے چین کے اس طرز عمل کو سراہا۔چین یورپی بالخصوص فرانسیسی مخصوص مشروبات کے لئے نہایت اہم مارکیٹ ہے.

متعلقہ فرانسیسی ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کےمطابق ، اس کی عالمی فروخت کا 25فیصد چین کو جاتا ہے ، اور پوری صنعت میں 4،400 فارم ، 120 فیکٹریاں اور 270 تاجر شامل ہیں ، اور اس سے 15،000 براہ راست ملازمتیں اور 70،000 بالواسطہ ملازمتیں پیدا ہوتی ہیں۔

یوں فرانس کے لئے چین کی بڑی صارفی منڈی کو کھو دینے کا مطلب ہے اپنی صنعتی چین کو شدید نقصان پہنچانا۔ ” پرائس انڈرٹیکنگ ” میکانزم بلاشبہ اس کیس کے حل کے لئے کلیدی کوڈز میں سے ایک ہے۔ پرائس انڈرٹیکنگ ایک برآمد کنندہ کی جانب سے رضاکارانہ طور پر یہ وعدہ ہے کہ اس کی برآمدات کی قیمت ایک طے شدہ لیول سے کم نہیں ہوگی اور یوں یہ برآمدات اینٹی ڈمپنگ ڈیوٹیز سےبچ جائیں گی ۔ اگست 2024 میں جب چین کی ابتدائی تحقیقات نے اس بات کی تصدیق کی کہ یورپی یونین کی مخصوص مشروبات کی ڈمپنگ کی شرح 27.7فیصد سے 34.9فیصد تک تھی ، تو متعلقہ یورپی یونین کی کمپنیوں نے بروقت ” پرائس انڈرٹیکنگ ” کی درخواستیں جمع کروائیں۔دوسری جانب چین نے اس معاملے سے نمٹنے میں انتہائی تحمل اور خیر سگالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ابتدائی فیصلے کے اعلان کے بعد چین نے فوری طور پر عارضی اینٹی ڈمپنگ جیسے سخت اقدامات اختیار نہیں کیے بلکہ اس رد عمل کو اسی سال اکتوبر تک ملتوی کر دیا۔ بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ، عارضی اینٹی ڈمپنگ اقدامات کے نفاذ کے بعد ، یورپی یونین کے متعلقہ کاروباری اداروں کو لین دین کو جاری رکھنے کے لئے “نقد ڈپازٹس” ادا کرنے کی ضرورت تھی اور اگر ڈپازٹس کی ادائیگی ہوتی تو قدرتی طور پر ان کاروباری اداروں کے نقد دباؤ میں ایک بڑا اضافہ ہوتا۔

اس صورت حال کے پیش نظر ،اسی سال نومبر میں چین نے اپنی شرائط میں مزید نرمی کرتے ہوئے ان کاروباری اداروں کو “نقد ڈپازٹس” کو “لیٹر آف گارنٹی” سے تبدیل کرنے کی اجازت دے دی۔ بظاہر معمولی سی ایڈجسٹمنٹ نے اس تجارتی تنازعے میں “ڈی فیکٹو شٹ ڈاؤن” کے امکانات کو ختم کر دیا، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے لئے قیمتی موقع پیدا ہو گیا۔ حتمی فیصلے کے اعلان کے بعد، چین نے عارضی اینٹی ڈمپنگ اقدامات کو ختم کر کے ڈپازٹس اور لیٹر آف گارنٹی دونوں کو واپس کر دیا ہے، جو بات چیت کے ذریعے تجارتی تنازعات کو حل کرنے میں چین کے خلوص کی عکاسی کرتا ہے.چین نے اتنے تحمل، خیر سگالی اور خلوص کا مظاہرہ کیوں کیا؟ کیا دنیا میں یورپ کا اس سے بہتر کوئی متبادل نہیں ہے؟ نہیں. کیا چین میں کوئی مقامی کمپنی نہیں ہے جو یورپ جیسی مخصوص مشروبات تیار کرسکے؟ نہیں .تو کیا چین طاقت کی کمی کے باعث مجبوری اور کمزوری کا مظاہرہ کر رہا تھا؟ ہرگز نہیں. امریکی ٹیرف غنڈہ گردی سے نمٹنے میں چین کے رویے اور کامیابیوں پر نظر ڈالیں تو یہ ایک نظر میں واضح ہو جائےگا۔چین کے طرز عمل کے پیچھے چین-یورپ معاشی و تجارتی تعلقات کے حوالے سے چین کا “باہمی فائدے اور مشترکہ کامیابی” کا مستقل فلسفہ ہے،بلکہ یہ یورپی یونین کے بارے میں چین کے مجموعی نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے جس کے مطابق چین یورپی یونین کو کثیر الجہتی اور آزاد تجارت کی پاسداری کرنے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد کے بین الاقوامی قواعد اور نظم و نسق کا تحفظ کرنے سمیت دیگر عالمی چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لئے ایک اسٹرٹیجک شراکت دار سمجھتا ہے۔ اس تنازعے کا کامیاب حل چین اور یورپی یونین کے درمیان الیکٹرک گاڑیوں کی اینٹی سبسڈی تحقیقات اور طبی آلات کی سرکاری خریداری سمیت دیگر شعبوں میں تجارتی تنازعات، یہاں تک کہ پوری دنیا میں تجارتی تنازعات کے حل کے لئے ایک مفید حوالہ فراہم کرتا ہے۔ یعنی مساوی بنیادوں پر مکالمہ، لچک اور عملیت پسندی اور اسی طرح کا سیاسی عزم، جو تنازعات کو حل کرنے کی کلید ہے۔

چین اور یورپ دنیا کی معیشت کا ایک تہائی سے زیادہ اور دنیا کی تجارت کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ رکھتے ہیں، اور ان کے مابین روزانہ تجارتی حجم اب ماضی میں پورے سال کے کل تجارتی حجم کے برابر ہے. اس سال چین اور یورپی یونین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 50 ویں سالگرہ ہے ، اور ان کے مابین مفادات کا کوئی بنیادی ٹکراؤ نہیں ہے۔ چین اور یورپی یونین کے تعلقات کی ترقی کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات اچھے شراکت دار کے طور پر موجود ہیں،تعاون ان کا مرکزی دھارہ ہے، خودمختاری ان کی کلیدی قدر ہے، اور جیت جیت ان تعلقات کی ترقی کا مستقبل ہے.امید کی جاتی ہے کہ یورپی یونین آئندہ منعقد ہونے والے چین-یورپی یونین سربراہ اجلاس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مستقبل میں چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں عالمی قطب کے طور پر معروضیت، معقولیت، مثبت رویے اور عملیت پسندی کا مظاہرہ کرے گی۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربیجنگ میں ’’قومی آزادی اور عالمی امن کے لئے‘‘تھیم ایگزبیشن کی افتتاحی تقریب کا انعقاد سبز رنگ ،چین-یورپی یونین تعاون کا نمایاں رنگ ہے ،چینی وزارت خارجہ برکس میکانزم ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کا ایک اہم پلیٹ فارم ہے، چینی وزارت خارجہ چین کے زرمبادلہ کے ذخائر 3.3174 ٹریلین ڈالر تک جا پہنچے دنیا ایک صدی کی تیز  تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، چینی وزیر اعظم حکومت اور اسٹیٹ بینک کے سخت فیصلوں سے معیشت بحال ہوئی، گورنر اسٹیٹ بینک پاکستان سٹاک مارکیٹ میں نیا ریکارڈ، انڈیکس تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھو گیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: یورپی یونین کے لئے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی