برکس ممالک تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے، برکس اعلامیہ
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
ریو ڈی جنیرو : 17ویں برکس سربراہی اجلاس کا ریو اعلامیہ جاری کیا گیا، جس کا موضوع تھا “گلوبل ساؤتھ تعاون کو مضبوط بنانا اور مزید جامع اور پائیدار عالمی حکمرانی کو فروغ دینا”۔ پیر کے روز چینی میڈیا کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ برکس ممالک توسیع شدہ برکس میکانزم کے تحت تعاون کو مزید مضبوط بنائیں گے اور سیاست و سلامتی، معیشت و مالیات اور ثقافت و انسانیت کے تین ستونوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔ برکس ممالک بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے تمام یکطرفہ جبر کے اقدامات کی مذمت کرتے ہیں اور کسی بھی طرح کی یکطرفہ پابندیوں کی مخالفت کرتے ہیں جن کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے اجازت نہیں دی گئی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک میں مسلسل اضافے کے ساتھ موجودہ برکس میکانزم کو ایڈجسٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ برکس ممالک کا پختہ یقین ہے کہ ابھرتی ہوئی منڈیوں اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ بات چیت اور شراکت داری کو مضبوط بنانے سے حقیقی بین الاقوامی تعاون کو فروغ ملے گا اور تمام بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچے گا۔ اس کے علاوہ، اعلامیے میں مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے، سائنسی اور تکنیکی اختراعی تعاون، عالمی صحت کے شعبے میں تعاون، توانائی کی تبدیلی، ثقافتی تبادلے، اور خلاء کے پرامن استعمال جیسے معاملات پر برکس ممالک کے متفقہ موقف کا بھی اظہار کیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ بھارت 2026 میں برکس کی صدارت سنبھالے گا اور 18ویں برکس لیڈرز میٹنگ کی میزبانی کرے گا۔
Post Views: 6.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: برکس ممالک تعاون کو گیا ہے
پڑھیں:
شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔ اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔ ایران 2023ء میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔