Islam Times:
2026-06-03@03:56:29 GMT

امریکہ مخالف ایک اہم اجلاس کی کارروائی

اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT

امریکہ مخالف ایک اہم اجلاس کی کارروائی

اسلام ٹائمز: برازیل کے شہر ریو ڈی جنرو میں برکس کے سربراہی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ "ہم اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف 13 جون 2025ء کے فوجی حملوں کی جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، مذمت کرتے ہیں۔ برکس کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے اپنے اعلامیہ ميں اسی طرح غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ برکس کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے اسی طرح ٹرمپ حکومت کے ٹیرف کے بارے میں کہا ہے کہ ہم ان کے یک جانبہ اقدامات پر جنھوں نے تجارت کو مختل کر دیا ہے اور تجارت کی عالمی تنظیم کے قوانین کے خلاف ہیں، تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی

امریکی صدر نے اعلان کیا کہ کوئی بھی ملک جو برکس گروپ کی امریکہ مخالف پالیسیوں سے ہم آہنگ ہوگا، اسے 10 فیصد اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکہ اور برکس کے رکن ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب دنیا کثیر قطبی کی طرف بڑھ رہی ہے، ایسی پالیسیاں بڑی طاقتوں کے درمیان معاشی اور سیاسی مسابقت کو تیز کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ برکس گروپ، جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور کئی دوسرے ممالک شامل ہیں، ایک اقتصادی اور سیاسی بلاک کے طور پر پھیل رہا ہے۔ یہ گروپ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور امریکہ پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔ اس دھمکی کے ساتھ، ٹرمپ عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور برکس طاقت کی توسیع کو روکنا چاہتے ہیں۔

اپنے پیغام میں، ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان محصولات میں کوئی استثنا نہیں ہے۔ ٹرمپ نے یہ بیان برکس اجلاس کے اس بیان کے جواب میں کہا ہے کہ برکس ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے "اندھا دھند" ٹیرفس کے نفاذ کی پالیسی کی مذمت کرتے ہیں۔ بلاک کے رہنماؤں نے "یکطرفہ ٹیرفس اور نان ٹیرفس اقدامات میں اضافے کے بارے میں شدید خدشات کا اظہار کیا، جو تجارت کو مسخ کرنے کے ساتھ ہی عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔" ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات "عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات کو متاثر کر رہے ہیں۔ برکس گروپ نے حالیہ برسوں میں نئے ممالک کے الحاق کے ساتھ اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ برکس بلاک کو ابتدا میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ نے تشکیل دیا تھا، جس میں گذشتہ برس مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا بھی رکن کے طور پر شامل ہوئے اور اس کے سائز میں اضافہ ہوا۔

یہ دنیا کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل گروپ ہے۔ اقتصادی طور پر برکس 2023ء میں تقریباً 30.

8 ٹریلین ڈالر کی جی ڈی پی کے ساتھ تیزی سے مغربی ممالک کے لیے ایک کاؤنٹر بلاک کے طور پر ابھرا ہے۔ اس کے علاوہ، اس بلاک میں دنیا کے تیل کے ذخائر کا تقریباً 44.4% ہے اور دنیا کی گندم کی پیداوار میں نمایاں حصہ (48.7%) ہے۔ یہ اثرات برکس کی معاشی طاقت اور قدرتی وسائل کو ظاہر کرتے ہیں، جو موجودہ مغربی ورلڈ آرڈر کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کے وسیع تر ہوتے گروپ برکس کے رہنماؤں نے اتوار کے روز برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں ملاقات کی، جس میں کثیرالجہتی سفارت کاری کے لیے بلاک کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اپنے افتتاحی کلمات میں برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے کہا، "ہم کثیرالجہتی کے بے مثال خاتمے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "اگر بین الاقوامی طرز حکمرانی 21 ویں صدی کی نئی کثیر قطبی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی ہے، تو پھر یہ برکس پر منحصر ہے کہ وہ اس کی تجدید میں مدد کرے۔" انہوں نے نیٹو فوجی اتحاد پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ اس نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں جی ڈی پی کے 5 فیصد دفاعی اخراجات کا ہدف مقرر کرنے کے بعد اسلحے کی عالمی دوڑ کو ہوا دی ہے۔ برازیل کے صدر نے عالمی اداروں کا ڈھانچہ از نو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ برازیل کے صدر نے برکس سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ڈھانچے کی از سر نو تیاری اور جدید عالمی نظام کی معماری ميں دنیا کے جنوبی ملکوں کے زیادہ کردار پر زور دیا ہے۔

ریو ڈی جنرو میں برکس سربراہی اجلاس کا ایجنڈا، امریکا کی تجارتی پالیسیوں کی مخالفت، ٹیکنالوجی پر اجارہ داری کا مقابلہ اور عالمی اداروں کی اصلاح ہے۔ ریو ڈی جنرو میں دو روزہ برکس سربراہی اجلاس کے شرکا جنوبی ملکوں کے باہمی تعاون کی تقویت کے ذریعے مغرب کی تسلط پسندی، نئے اقتصادی چیلنجز، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) اور موسمی تغیرات  جیسے مسائل پر بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیال کریں گے۔ برازیل کے صدر لوئس ایناسیو لولا ڈا سلوا نے برکس سربراہی اجلاس سے خطاب میں جدید ترین ٹیکنالوجی بالخصوص آرٹیفیشل انٹلیجنس پر چند جانبہ نگرانی کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اگر اس حوالے سے معاہدے کا شفاف ڈھانچہ تیار نہ کیا گیا تو بڑی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی پر اپنا تسلط اور اجارہ داری قائم کرلیں گی۔

انھوں نے کہا کہ شفاف اور جامع دستور العمل کے فقدان کی صورت میں ایسے ماڈل اپنائے جائیں گے، جن میں صرف بڑی کمپنیوں کی تجربے کہ بنیاد پر توسیع آئے گی۔ برازیل کے شہر ریو ڈی جنرو میں برکس کے سربراہی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ "ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف 13 جون 2025ء کے فوجی حملوں کی جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، مذمت کرتے ہیں۔ برکس کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے اپنے اعلامیہ ميں اسی طرح غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ برکس کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے اسی طرح ٹرمپ حکومت کے ٹیرف کے بارے میں کہا ہے کہ ہم ان کے یک جانبہ اقدامات پر جنھوں نے تجارت کو مختل کر دیا ہے اور تجارت کی عالمی تنظیم کے قوانین کے خلاف ہیں، تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: برکس سربراہی اجلاس ریو ڈی جنرو میں برازیل کے صدر بین الاقوامی کہا ہے کہ اجلاس کے کرتے ہیں ممالک کے کے ساتھ میں کہا بلاک کے دیا ہے

پڑھیں:

چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا

اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔

محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔

ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا