امریکہ مخالف ایک اہم اجلاس کی کارروائی
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
اسلام ٹائمز: برازیل کے شہر ریو ڈی جنرو میں برکس کے سربراہی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ "ہم اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف 13 جون 2025ء کے فوجی حملوں کی جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، مذمت کرتے ہیں۔ برکس کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے اپنے اعلامیہ ميں اسی طرح غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ برکس کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے اسی طرح ٹرمپ حکومت کے ٹیرف کے بارے میں کہا ہے کہ ہم ان کے یک جانبہ اقدامات پر جنھوں نے تجارت کو مختل کر دیا ہے اور تجارت کی عالمی تنظیم کے قوانین کے خلاف ہیں، تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ ترتیب و تنظیم: علی واحدی
امریکی صدر نے اعلان کیا کہ کوئی بھی ملک جو برکس گروپ کی امریکہ مخالف پالیسیوں سے ہم آہنگ ہوگا، اسے 10 فیصد اضافی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ٹرمپ کا یہ اقدام امریکہ اور برکس کے رکن ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔ ایسی صورتحال میں جب دنیا کثیر قطبی کی طرف بڑھ رہی ہے، ایسی پالیسیاں بڑی طاقتوں کے درمیان معاشی اور سیاسی مسابقت کو تیز کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ برکس گروپ، جس میں برازیل، روس، بھارت، چین اور کئی دوسرے ممالک شامل ہیں، ایک اقتصادی اور سیاسی بلاک کے طور پر پھیل رہا ہے۔ یہ گروپ اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے اور امریکہ پر انحصار کم کرنا چاہتا ہے۔ اس دھمکی کے ساتھ، ٹرمپ عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے اور برکس طاقت کی توسیع کو روکنا چاہتے ہیں۔
اپنے پیغام میں، ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ان محصولات میں کوئی استثنا نہیں ہے۔ ٹرمپ نے یہ بیان برکس اجلاس کے اس بیان کے جواب میں کہا ہے کہ برکس ممالک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے "اندھا دھند" ٹیرفس کے نفاذ کی پالیسی کی مذمت کرتے ہیں۔ بلاک کے رہنماؤں نے "یکطرفہ ٹیرفس اور نان ٹیرفس اقدامات میں اضافے کے بارے میں شدید خدشات کا اظہار کیا، جو تجارت کو مسخ کرنے کے ساتھ ہی عالمی تجارتی تنظیم کے قوانین سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں۔" ان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات "عالمی اقتصادی ترقی کے امکانات کو متاثر کر رہے ہیں۔ برکس گروپ نے حالیہ برسوں میں نئے ممالک کے الحاق کے ساتھ اپنی طاقت میں اضافہ کیا ہے۔ برکس بلاک کو ابتدا میں برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ نے تشکیل دیا تھا، جس میں گذشتہ برس مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا بھی رکن کے طور پر شامل ہوئے اور اس کے سائز میں اضافہ ہوا۔
یہ دنیا کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل گروپ ہے۔ اقتصادی طور پر برکس 2023ء میں تقریباً 30.
انہوں نے کہا، "اگر بین الاقوامی طرز حکمرانی 21 ویں صدی کی نئی کثیر قطبی حقیقت کی عکاسی نہیں کرتی ہے، تو پھر یہ برکس پر منحصر ہے کہ وہ اس کی تجدید میں مدد کرے۔" انہوں نے نیٹو فوجی اتحاد پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ اس نے گذشتہ ماہ کے اواخر میں جی ڈی پی کے 5 فیصد دفاعی اخراجات کا ہدف مقرر کرنے کے بعد اسلحے کی عالمی دوڑ کو ہوا دی ہے۔ برازیل کے صدر نے عالمی اداروں کا ڈھانچہ از نو تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ برازیل کے صدر نے برکس سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں اقوام متحدہ، آئی ایم ایف اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ڈھانچے کی از سر نو تیاری اور جدید عالمی نظام کی معماری ميں دنیا کے جنوبی ملکوں کے زیادہ کردار پر زور دیا ہے۔
ریو ڈی جنرو میں برکس سربراہی اجلاس کا ایجنڈا، امریکا کی تجارتی پالیسیوں کی مخالفت، ٹیکنالوجی پر اجارہ داری کا مقابلہ اور عالمی اداروں کی اصلاح ہے۔ ریو ڈی جنرو میں دو روزہ برکس سربراہی اجلاس کے شرکا جنوبی ملکوں کے باہمی تعاون کی تقویت کے ذریعے مغرب کی تسلط پسندی، نئے اقتصادی چیلنجز، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) اور موسمی تغیرات جیسے مسائل پر بحث و مباحثہ اور تبادلہ خیال کریں گے۔ برازیل کے صدر لوئس ایناسیو لولا ڈا سلوا نے برکس سربراہی اجلاس سے خطاب میں جدید ترین ٹیکنالوجی بالخصوص آرٹیفیشل انٹلیجنس پر چند جانبہ نگرانی کی ضرورت پر زور دیا اور خبردار کیا کہ اگر اس حوالے سے معاہدے کا شفاف ڈھانچہ تیار نہ کیا گیا تو بڑی کمپنیاں جدید ٹیکنالوجی پر اپنا تسلط اور اجارہ داری قائم کرلیں گی۔
انھوں نے کہا کہ شفاف اور جامع دستور العمل کے فقدان کی صورت میں ایسے ماڈل اپنائے جائیں گے، جن میں صرف بڑی کمپنیوں کی تجربے کہ بنیاد پر توسیع آئے گی۔ برازیل کے شہر ریو ڈی جنرو میں برکس کے سربراہی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ "ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف 13 جون 2025ء کے فوجی حملوں کی جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں، مذمت کرتے ہیں۔ برکس کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے اپنے اعلامیہ ميں اسی طرح غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ برکس کے رکن ملکوں کے سربراہوں نے اسی طرح ٹرمپ حکومت کے ٹیرف کے بارے میں کہا ہے کہ ہم ان کے یک جانبہ اقدامات پر جنھوں نے تجارت کو مختل کر دیا ہے اور تجارت کی عالمی تنظیم کے قوانین کے خلاف ہیں، تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: برکس سربراہی اجلاس ریو ڈی جنرو میں برازیل کے صدر بین الاقوامی کہا ہے کہ اجلاس کے کرتے ہیں ممالک کے کے ساتھ میں کہا بلاک کے دیا ہے
پڑھیں:
عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔
ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔
ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔
ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔
اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔
نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔
لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔
سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔
پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔