بھارت سے شکست پر بین اسٹوکس کی انوکھی منطق، انگلش شائقین برہم
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
بھارت کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں شکست پرایجبیسٹن کی پچ کو برِ صغیر کی پچ کہنے پر انگلش ٹیسٹ کپتان بین اسٹوکس کو اپنے ہی لوگوں نے تنقید کا نشانہ بنا دیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق بھارت کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کو 336 رنز کے بڑے مارجن سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ایجبیسٹن میں تاریخی شکست کے بعد انگلش کپتان بین اسٹوکس کے شکست کی انوکھی وجہ بتانے پر انگلش شائقینِ کرکٹ نے ان کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
بین اسٹوکس کا کہنا تھا کہ میچ میں وقت گزرنے کے ساتھ ان کی ٹیم کے لیے رنز اسکور کرنا مشکل ہورہا تھا کیونکہ پچ بالکل بھارت جیسی ہوگئی تھی جس سے مخالف ٹیم کو بھرپور سپورٹ ملی۔
بین اسٹوکس نے کہا کہ جیسے جیسے میچ آگے بڑھتا گیا ویسے ویسے ان کی مشکلات میں اضافہ ہوتا گیا جبکہ بھارت کو بھرپور فائدہ ہوا کیونکہ انھیں اپنے گھر جیسی پچ ملی جس میں وہ بہترین کھیل پیش کرتے ہیں۔
تاہم، ا نگلش شائقین کو اپنے کپتان کا یہ ردعمل پسند نہ آیا اور انہوں نے سوشل میڈیا پر بین اسٹوکس کو شدیدتنقید کا نشانہ بنایا۔
جیمز نامی ایک صارف نے لکھا بین اسٹوکس کو مان لینا چاہیے کہ انگلینڈ نئی گیند سے بھارت کا مقابلہ نہیں کرسکا۔ ہمیں اپنی کمزوریوں اور بھارت کی بہترین بولنگ کا اعتراف کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی بین اسٹوکس کو یاد دہانی کرائی کہ اسی پچ پر بھارتی باؤلرز نے بھی وکٹیں لیں۔
ایک صارف اسکاٹ نے بین اسٹوکس کے بیان کو ہار کا صرف ایک بہانہ قرار دیا اور واضح کیا کہ ان دنوں برمنگھم کی پچ واقعی برصغیر جیسی ہوجاتی ہے لیکن یہ صرف بہانے بازی ہے۔
ایک اور صارف نے انگلینڈ کے کپتان کو ہارا ہوا کھلاڑی قرار دیا۔ انہوں نے بین اسٹوکس کو آئینہ دکھاتے ہوئے لکھا کہ جب بین اسٹوکس انڈیا میں ہار جاتے ہیں تو وہ وہاں کی پچز کو اس کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور جب اپنے ہی ملک میں ہار کا مزہ چکھنا پڑتا ہے تو اپنے ملک کی پچز کو بھارت جیسی قرار دے کر شکست کا ملبہ ڈال دیتےہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بین اسٹوکس کو
پڑھیں:
بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب
اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔
تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت
اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔
دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔
یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ