کراچی میں انتہائی خطرناک عمارتیں گرائی جائیں گی، ابتدائی پلان تیار
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
سانحہ لیاری کے بعد انتہائی خطرناک عمارتوں کو خالی کروانے کا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے ابتدائی پلان تیار کرلیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں کراچی ساؤتھ میں 51 مخدوش عمارتوں کی نشاندہی کرلی گئی، ناقابل رہائش عمارتوں میں 400 سے زائد افراد مقیم ہیں، لیاری سب ڈویژن میں دو روز کے دوران چھ عمارتوں کو خالی کروایا گیا۔
لیاری میں تباہ عمارت سے ملحق عمارتیں گرائی جائیں گی، مکینوں کو سامان نکالنے کی ہدایتایس بی سی اے ڈیمولیشن ٹیم کی طرف سے ابتدائی طور پر منہدم عمارت کے دوسرے حصے کو گرایا جائے گا، متاثرہ عمارت کے گھروں سے سامان نکالنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
ریونیو ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض قدیمی عمارتوں کے سروے، پلاٹ نمبر میں فرق ہے، 51 عمارتوں میں 12 سے 15 عمارتیں ہیریٹیج ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں ایس بی سی اے ڈیمالیشن ٹیم انتہائی خطرناک عمارتیں گرائے گی، ایس بی سی اے کی ڈیمالیشن ٹیم میں افرادی قوت مشینری کی کمی ہے، ضلعی انتظامیہ نے گرائی جانے کے قابل عمارتوں کیلئے متبادل تجاویز تیار کرلیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ 24 گھنٹے میں ازسر نو سروے کرکے عمارتوں کو گرانے کا سلسلہ تیز ہوگا۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا کہنا ہے کہ عمارت کی تیسری منزل کو گرا کر بنیادوں کی مرمت کرنے کا کہا گیا،
خیال رہے کہ لیاری بغدادی میں عمارت گرنے کے افسوسناک واقعے کو چار روز گزر چکے ہیں جس میں 27 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔ علاقے کی فضا سوگوار تو ہے ہی لیکن متاثرہ عمارت کے اطراف کی مخدوش عمارتوں کے رہائشی کسی انجانے خوف کا شکار بھی ہیں۔
ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے شری رامناتھ مہاراج نے دعویٰ کیا کہ لیاری میں گرنے والی بلڈنگ میں ملبے تلے دب کر مرنے والے 27 میں سے 20 افراد کا تعلق ہندو کمیونٹی سے ہے۔
شری رامناتھ مہاراج کا کہنا تھا کہ متاثرین کو حکومت کی جانب سے کوئی گھر نہیں دیا گیا، متاثرین اپنے رشتے داروں کے پاس یا مہیشوری کمیونٹی سینٹر میں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے عمارت کے
پڑھیں:
لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
لاہور: بلدیاتی الیکشن کے لیے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی. لاہور میں مجموعی طور پر 433 یونین کونسلز بنائی گئی ہیں۔ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر پنجاب نے لاہورکی یونین کونسل کی حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کردی.فہرست کےمطابق لاہور کو نو ٹاؤن میں تقسیم کیا گیا جس میں راوی ٹاؤن 52، شالیمار میں 72، واہگہ ٹاؤن میں 25 یونین کونسلز قائم کی گئی ہیں۔ماڈل ٹاؤن میں 77، نشتر ٹاؤن میں 40، صدر کینٹ میں 29 یونین کونسل بنائی گئیں، رائے ونڈ سٹی میں 32، لاہور سٹی میں 69 اور علامہ اقبال ٹاؤن میں 37 یونینز بنائی گئیں۔شہری 23 جون تک حلقہ بندیوں پر اعتراضات دائرکرسکتے ہیں. 24 جولائی تک اعتراضات پر فیصلہ سنایا جائےگا. تمام حلقہ بندیوں کی حتمی فہرست 10اگست 2026 کو جاری ہوگی۔