حسینیت کا پیغام ظلم کے ہر نظام کے خلاف عملی جہاد ہے،ابو الخیر زبیر
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)جمعیت علماءپاکستان وملی یکجہتی کونسل کے صدر، صاحبزادہ ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کہا ہے کہ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ظلم، جبر، استبداد اور فاشزم کے خلاف جدوجہد کی ،آج کا ”یزیدی نظام” بھی وہی ہے جو حق کو دبانے، عدل کو
مٹانے اور عوام پر ظلم مسلط کرنے میں مصروف ہے۔حسینیت کا پیغام ظلم کے ہر نظام کے خلاف عملی جہاد ہے۔ وہ ”ذکرِ سلطانِ کربلا کانفرنس” سے خطاب کر رہے تھے جو شہداءو اسیرانِ کربلا کی یاد اور پیغام کو اجاگر کرنے کے لیے منعقد کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں حسینی کردار کو اپنانا ہوگا، کیونکہ یزید صرف 61 ہجری کا کردار نہیں بلکہ ہر دور کا ظلم، سود، استبداد اور دین دشمنی کا نمائندہ ہے۔ ملک میں جاری سودی معیشت، آئی ایم ایف کی غلامی، اور اسلامی احکامات سے متصادم قانون سازی دراصل جدید یزیدیت کی شکلیں ہیں۔ حکومت کی جانب سے 18 سال سے کم عمر شادی پر پابندی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے صاحبزادہ زبیر نے کہا کہ اسلام میں نکاح کی بنیاد بلوغت ہے، عمر کی حد نہیں، یہ قانون مغربی دبا¶ اور سیکولر نظریات کا نتیجہ ہے، جو ہمارے دینی، معاشرتی اور خاندانی نظام کو برباد کرنے کی سازش ہے۔انہوں نے کہا کہ آج معاشی غلامی کا سب سے بڑا ذریعہ سودی قرضے ہیں، جو ملک کو خودمختاری سے محروم کر رہے ہیں۔امام حسین نے دربار یزید کو ٹھکرا کر ہمیں یہ سکھایا کہ باطل کے سامنے سر جھکانا غلامی ہے، چاہے وہ مالی ہو یا فکری۔ انہوں نے کہا کہ ہماری نجات نہ مغرب کے نظام میں ہے، نہ سرمایہ دارانہ معیشت میں بلکہ صرف اور صرف نظامِ مصطفیٰ ﷺ میں ہے، جو عدل، اخوت، غیرت اور روحانیت کا علمبردار ہے۔کانفرنس سے جمعیت علماءپاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سید عقیل انجم قادری، علامہ قاری نیا احمد نقشبندی،حافظ اشفاق حسین قادری،ارشاد حسین نقشبندی،آصف جلیل نے بھی خطاب کیا ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
(شاہین عتیق) فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ریاست کے خلاف ٹویٹ کیس کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی ہوگئی۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے فلک جاوید اور صنم جاوید کے کیس کی سماعت کی،عدالت میں اس بار بھی صنم جاوید کو جیل سے لاکر پیش نہیں کیا گیا جبکہ فلک جاوید کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت میں نیشنل کرائم ایجنسی ایف آئی اے نے درخواست دی کہ دونوں کے کیس کی سماعت جیل میں کی جاے،عدالت نے درخواست کو خارج کر تے ہوے قرار دیا کہ یہ کام ہوم ڈیپارٹمنٹ کا ہے ان سے رابطہ کریں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
عدالت میں ایف آئی اے نے صنم جاوید اور فلک جاوید کے خلاف چالان پیش کر رکھا ہے۔