190 ملین پاﺅنڈ کیس،عمران خان اور بشری بی بی کی جلد سماعت کیلئے درخواستیں دائر
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔08 جولائی ۔2025 )سابق وزیراعظم عمران خان اور بشری بی بی نے190ملین پاﺅنڈ کیس کی جلد سماعت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کر دی ہیں بیرسٹر سلمان صفدر کے ذریعے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیںدائر کی گئیں.
(جاری ہے)
درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ سزا معطلی کی درخواستوں پر جلد سماعت کی جائے، 17 جنوری کو سزا ہوئی، 27 جنوری کو اپیل فائل کر دی، 15 مئی کو سزا معطلی درخواستوں پر پہلی سماعت ہوئی دائر درخواست میں کہا گیا کہ نیب کیس لٹکانے کے لئے بار بار التوا مانگ رہا ہے، عدالت سے گزشتہ سماعت پر کیس جلد مقرر کرنے کی استدعا کی گئی، یقین دہانی کے باوجود سزا معطلی کی درخواستیں جلد مقرر نہیں ہوئیں درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت سزا معطلی کی دونوں درخواستیں جلد سماعت کیلئے مقرر کرنے کا حکم دے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے جلد سماعت کی سزا معطلی
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔