اوگرا میں خلاف قانون بھاری تنخواہوں پر مشیروں کی بھرتیوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
لاہور:
اوگرا میں خلاف قانون بھاری تنخواہوں پر مشیروں کی بھرتیوں کی انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایڈوائزرز کا تقرر کیا گیا ہے اور ان مشیروں کو لاکھوں روپے ماہانہ تنخواہ پر رکھا گیا ہے۔
اوگرا میں کنٹریکٹ پر رکھے گئے مشیروں میں غلام رضا اور نعیم غوری شامل ہیں ۔ نعیم غوری اوگرا میں ممبر فنانس رہے ہیں اور 6 مرتبہ ریٹائرمنٹ کے بعد توسیع لیتے رہے۔ نعیم غوری کو ساتویں بار مدت ملازمت میں توسیع نہ ملی تو ان کو بطور مشیر رکھ لیا گیا ۔
اسی طرح غلام رضا ایک نجی آئل کمپنی سے ریٹائر ڈ ہوئے تو ان کو بھی اوگرا میں مشیر رکھ لیا گیا ۔
واضح رہے کہ اوگرا میں تمام شعبوں میں پہلے ہی مشیر اور افسران تعینات ہیں ۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) میں کنٹریکٹ پر رکھے جانے والے مشیروں کو چیئرمین اوگرا مسرور خان کے حکم پر رکھا گیا ہے ۔ چیئرمین اوگرا مسرور خان نے اختیارات کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے مشیروں کی کنٹریکٹ پر بھرتی کیے ہیں۔
اوگرا میں تقرری کے لیے شفافیت اور قوانین کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ وزیر اعظم کفایت شعاری مہم کے تحت اداروں سے افسران اور ملازمین کی پوسٹ کو کم کیا جا رہا ، جب کہ دوسری طرف اوگرا میں پرکشش تنخواہ پر مشیر رکھے جا رہے ہیں ۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ اوگرا میں درجہ اول سے درجہ چہارم کے ملازمین کو بغیر اشتہارات رکھا جا سکتا ہے، لیکن مشیروں کو نہیں۔
دوسری جانب ترجمان اوگرا کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کے فریم ورک کا جائزہ لینے کے لیے مشیروں کو رکھا گیا ہے۔ اوگرا نے اپنی سروس ریگولیشنز کے تحت ایک مخصوص اور وقت مقررہ اسائنمنٹ کے لیے ایک انڈسٹری کے ماہر کی خدمات حاصل کی ہیں اور جن افراد کو رکھا گیا ہے، ان کی زیادہ سے زیادہ مدت 89 دن مقرر کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رکھا گیا ہے مشیروں کو اوگرا میں
پڑھیں:
بحرین میں ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ لگانے پر پابندی عائد
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین میں قیدیوں کے لیے کام کرنیوالی تنظیم نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ملک کے سکیورٹی اداروں نے ماہِ محرم کی آمد کے موقع پر مجالس عزا پڑھنے والے خطباء اور مقررین کو وسیع پیمانے پر طلب کر کے نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے شیعہ مذہبی مراسم پر دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحرینی سکیورٹی اداروں نے محرم الحرام سے قبل متعدد خطباء اور ذاکرین کو طلب کیا ہے اور عزاداری کی مجالس اور مذہبی شعائر کے انعقاد کے لیے کئی نئی پابندیاں نافذ کی ہیں۔ ان پابندیوں میں مجالسِ عزاء کے لیے چالیس منٹ کی وقت کی حد مقرر کرنا، بعض حسینی نعروں خصوصاً ہَیْہَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کے بلند کرنے یا دہرانے پر پابندی لگانا، نیز خطباء کو ظلم و استبداد کے خلاف جدوجہد سے وابستہ تاریخی اور سیاسی شخصیات کا تذکرہ کرنے سے روکنا شامل ہے۔
ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے ان فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے انہیں بحرین کی شیعہ اکثریتی آبادی کے خلاف اختیار کی جانے والی محدودیت پسند پالیسیوں کا حصہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اقدامات مذہبی مناسبتوں پر نگرانی اور کنٹرول بڑھانے کے مقصد سے کیے جا رہے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ محرم کے آغاز سے قبل سکیورٹی اقدامات میں اضافہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بحرینی حکام عاشورا کے پیغام اور عزاداری کی مجالس کے سماجی اور ثقافتی اثرات کے حوالے سے تشویش رکھتے ہیں۔ ہیئت امورِ قیدیانِ بحرین نے زور دے کر کہا کہ یہ پابندیاں ان متعدد اقدامات کا تسلسل ہیں جو گزشتہ برسوں کے دوران مختلف علماء، خطباء اور مذہبی شخصیات کے خلاف گرفتاریوں، طلبیوں اور دباؤ کی صورت میں سامنے آتے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ایسی پالیسیوں کا تسلسل مذہبی شعائر کی آزادانہ ادائیگی اور بحرینی معاشرے کی دینی و ثقافتی شناخت کے تحفظ پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔