عوام کے لیے خوشخبری، ملک بھر کے لیے بجلی قیمتوں میں کمی کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
نیپرا نے ملک بھر کے لیے ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی سستی کر دی ہے۔ کراچی کے لیے فی یونٹ قیمت میں 4 روپے 3 پیسے جبکہ باقی ملک کے لیے 50 پیسے فی یونٹ کمی کی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بجلی کی قیمتوں میں ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کمی کے علیحدہ علیحدہ نوٹیفکیشنز جاری کیے ہیں۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ بجلی صارفین کو اس کمی کا ریلیف جولائی کے بلوں میں ملے گا۔ کے الیکٹرک کے صارفین کے لیے یہ کمی اپریل 2025 کی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کے تحت کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق باقی ملک کے لیے بجلی کی قیمت میں کمی مئی 2025 کی ایڈجسٹمنٹ کے تحت کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ کے الیکٹرک نے اپریل کی ایڈجسٹمنٹ میں 4 روپے 69 پیسے فی یونٹ کمی کی درخواست دی تھی، جبکہ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مئی کی ایڈجسٹمنٹ میں 10 پیسے فی یونٹ اضافے کی سفارش کی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بجلی سستی خوشخبری ماہانہ ایڈجسٹمنٹ نیپرا وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بجلی سستی ماہانہ ایڈجسٹمنٹ نیپرا وی نیوز ماہانہ ایڈجسٹمنٹ فی یونٹ کے لیے
پڑھیں:
کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟ نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
نئے مالی سال کے لیے کم از کم اجرت مقرر کرنے کے حوالے سے نئی سفارش سامنے آ گئی۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے مالی سال 27-2026 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی باضابطہ سفارش کر دی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق پائیڈ نے اپنے شواہد پر مبنی فریم ورک کے ذریعے موجودہ 40 ہزار روپے کی تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ یہ تجویز قومی سطح پر ملازمین کے مالی حالات کو بہتر بنانے اور معاشی استحکام کی جانب ایک اہم قدم کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کم از کم اجرت کا تعین اب صرف محکمۂ محنت کا داخلی معاملہ نہیں رہا، بلکہ یہ فیصلہ ملکی معیشت کے وسیع تر پہلوؤں پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ اس میں شہریوں کی قوتِ خرید، غربت کی شرح، غیر رسمی روزگار اور مقامی طلب جیسے اہم عوامل شامل ہیں۔
ادارے نے مزید واضح کیا کہ تنخواہوں میں یہ ردوبدل پیداواری ترغیبات بڑھانے اور سماجی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط افراطِ زر 6.19 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ اپریل 2026 میں سال بہ سال بنیادوں پر افراطِ زر کی شرح 10.9 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔