حکومت کا لیپ ٹاپ کی تقسیم کے حوالے سے بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT
حکومت نے طلبہ کے لیے خوشخبری دیتے ہوئے وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم کے تحت لیپ ٹاپ کی تقسیم کے حوالے سے بڑا فیصلہ کرلیا۔
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور وزیر اعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود کی زیر صدارت وزیراعظم لیپ ٹاپ سکیم فیز 4 کے تحت تیسری خصوصی کمیٹی کا ایک اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں دیگر اہم وفاقی وزرا بھی شریک ہوئے جن میں وفاقی وزیر برائے عوامی امور رانا مبشر اقبال اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ شامل تھے۔
اجلاس کا مقصد لیپ ٹاپ سکیم کے حوالے سے پیش رفت کا جائزہ لینا اور علاقائی سطح پر موصول ہونے والی درخواستوں کی تفصیلات کا معائنہ کرنا تھا۔ اس موقع پر کوٹہ کی تقسیم، طلبہ کی تعداد، جامعات کی شمولیت، اور شفافیت کو یقینی بنانے جیسے اہم نکات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ پورے عمل کو مکمل شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ اہل طلبہ کو حقیقی معنوں میں فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اجلاس کے دوران اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ لیپ ٹاپ سکیم کی تقاریب کے حوالے سے ایک جامع میڈیا مہم شروع کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اس اہم اقدام سے آگاہی حاصل ہو۔ میڈیا مہم کی قیادت وزارتِ اطلاعات و نشریات کرے گی، جو اس منصوبے کو عوام تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے ذرائع ابلاغ کا بھرپور استعمال کرے گی۔
ڈاکٹر خالد مقبول نے اس موقع پر اعلان کیا کہ لیپ ٹاپ سکیم کی مرکزی افتتاحی تقریب 25 جولائی کو جناح کنونشن سینٹر اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی۔ اس تقریب میں وزیراعظم، اعلیٰ حکومتی شخصیات، طلبہ، جامعات کے وائس چانسلر اور دیگر معزز مہمان شرکت کریں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ افتتاحی تقریب کے بعد مختلف شہروں میں علاقائی سطح پر بھی تقاریب کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ تمام علاقوں کے طلبہ اس سکیم سے مستفید ہو سکیں۔ ان علاقائی تقاریب کی تاریخوں کا جلد اعلان کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لیپ ٹاپ سکیم کے حوالے سے
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔