Islam Times:
2026-07-24@14:00:04 GMT

حماس کے جان لیوا حملے

اشاعت کی تاریخ: 9th, July 2025 GMT

حماس کے جان لیوا حملے

اسلام ٹائمز: گھات لگا کر حملوں کی کامیابی کا راز محدود پیمانے پر افراد کا استعمال اور دشمن پر اچانک وار کرنے میں پوشیدہ ہے۔ یوں حماس کو غزہ کے تمام علاقوں میں اپنے مجاہدین تعینات کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ فلسطینی مجاہدین موقع پا کر تیزی سے دشمن پر حملہ کرتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف صیہونی فوجی جب تک سنبھلتے ہیں اس وقت تک فلسطینی مجاہدین اپنی کاروائی مکمل کر کے جا چکے ہوتے ہیں۔ اس طرح صیہونی فوجی گویا بھوتوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا مجاہدین کس وقت اور کہاں ان پر حملہ ور ہوں گے۔ اس نے صیہونی فوجیوں کو شدید نفسیاتی دباو کا شکار کر کے ان کے حوصلے پست کر دیے ہیں۔ وہ ہر وقت حملے کے خوف کا شکار ہوتے ہیں اور اس خوف نے انہیں مار ڈالا ہے۔ تحریر: علی احمدی
 
غزہ پر غاصب صیہونی رژیم کی فوجی جارحیت کے 737 ویں دن بیت حانون کے علاقے میں فیصلہ کن معرکہ ہوا جس میں صیہونی فوج کا سیکنڈ لیفٹیننٹ بنجمن ایسولین، جو اپنے افراد کے ساتھ گشت کر رہا تھا مارا گیا۔ اب تک اس علاقے میں حماس کئی بار چھاپہ مار کاروائیاں انجام دے چکی ہے۔ یہ علاقہ اسٹریٹجک لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ یہاں عام طور پر صیہونی فوج گشت زنی کرتی رہتی ہے لیکن اس بار حماس کے ملٹری ونگ شہید عزالدین قسام بٹالینز نے ایک جان لیوا حملہ کیا اور صیہونی فوج کو بڑے جانی نقصان کا شکار کر دیا۔ مقامی ذرائع کے بقول پہلے ایک اسرائیلی ٹینک کو بم سے نشانہ بنایا گیا اور اس کے بعد جب امدادی ٹیمیں وہاں پہنچیں تو یکے بعد از دیگرے کئی بم دھماکے ہوئے جو پہلے سے نصب کئے گئے بموں کے ذریعے انجام پائے تھے۔
 
یوں چار بم دھماکے ہوئے اور ساتھ ہی حماس کے مجاہدین نے اسرائیلی فوجیوں پر فائرنگ کر دی۔ صیہونی ذرائع ابلاغ کے بقول یہ اب تک کا شدید ترین حملہ تھا جو نتسح یہودا یونٹ کے خلاف انجام پایا۔ یہ یونٹ اس سے پہلے مغربی کنارے میں بھی فلسطینیوں پر ظلم و ستم کرنے میں ملوث رہی ہے اور اس کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات بھی ہیں۔ حماس کی اس چھاپہ مار کاروائی نے صیہونی فوج کو شدید مشکل میں ڈال دیا اور آخرکار اسرائیلی جنگی طیارے ان کی نجات کے لیے آنے پر مجبور ہو گئے لیکن فائرنگ اور جھڑپوں کا سلسلہ صبح تک جاری رہا۔ صیہونی فوج نے اس معرکے میں 5 فوجیوں کی ہلاکت اور 14 فوجیوں کے زخمی ہونے کا اعتراف کیا ہے لیکن یوں دکھائی دیتا ہے کہ جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔
 
فوجی طاقت کے بل بوتے پر مقاومت کچل دینے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے۔ طوفان الاقصی آپریشن کے بعد صیہونی حکمرانوں نے غزہ میں سرگرم اسلامی مزاحمتی فورسز کو فوجی طاقت کے بل بوتے پر کچل دینے کی حکمت عملی اختیار کی تھی جو پوری طرح ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت اسلامی مزاحمت پر ہر طرف سے شدید دباو ڈالا گیا اور اسے مکمل طور پر ختم کر دینے کی کوشش کی گئی۔ لہذا صیہونی جنگی مشینری نے وسیع سطح پر غزہ میں داخل ہو کر خان یونس اور جبالیا سمیت وسیع علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ دوسری طرف حماس کے ملٹری ونگ شہید عزالدین قسام بٹالینز نے اپنا نقصان کم از کم کرنے کے لیے چھاپہ مار کاروائیوں کی حکمت عملی اختیار کی۔ وہ گھات لگا کر حملے کرتے ہیں اور یوں صیہونی فوج پر کاری ضرب لگاتے ہیں۔
 
گھات لگا کر حملوں کی کامیابی کا راز محدود پیمانے پر افراد کا استعمال اور دشمن پر اچانک وار کرنے میں پوشیدہ ہے۔ یوں حماس کو غزہ کے تمام علاقوں میں اپنے مجاہدین تعینات کرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ فلسطینی مجاہدین موقع پا کر تیزی سے دشمن پر حملہ کرتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے غائب ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف صیہونی فوجی جب تک سنبھلتے ہیں اس وقت تک فلسطینی مجاہدین اپنی کاروائی مکمل کر کے جا چکے ہوتے ہیں۔ اس طرح صیہونی فوجی گویا بھوتوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور انہیں معلوم نہیں ہوتا مجاہدین کس وقت اور کہاں ان پر حملہ ور ہوں گے۔ اس نے صیہونی فوجیوں کو شدید نفسیاتی دباو کا شکار کر کے ان کے حوصلے پست کر دیے ہیں۔ وہ ہر وقت حملے کے خوف کا شکار ہوتے ہیں اور اس خوف نے انہیں مار ڈالا ہے۔
 
صیہونی رژیم نے غزہ میں ایک نئی چال چلی ہے اور وہاں اپنے ایجنٹوں کو حماس کے خلاف سرگرم عمل کر دیا ہے۔ غزہ میں بدنام زمانہ اسمگلر یاسر ابوشباب کو اسلحہ فراہم کر کے اس کے گروہ کو "عوامی محاذ" کا نام دے دیا گیا ہے۔ یہ غزہ میں دشمن کا ففتھ کالم ہے جو فلسطینی مجاہدین کے خلاف غداری کا مرتکب ہو رہا ہے۔ یاسر ابوشباب کا تعلق ترابین نامی خانہ بدوش قبیلے سے ہے جو صحرائے نقب اور سینا میں مقیم ہیں۔ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران حماس کے مجاہدین نے اس گروہ کے خلاف بھی متعدد کاروائیاں کیں ہیں اور اس کے 50 افراد کو واصل جہنم کیا ہے۔ سیکورٹی امور کے تجزیہ کار اینڈریاس کریگ اس بارے میں لکھتے ہیں: "اگرچہ اہل غزہ کی اکثریت کی نظر میں عوامی محاذ نامی گروہ ایک مجرم اور غیرقانونی گروہ ہے لیکن اس گروہ کا اصلی مقصد مزاحمتی فورسز کو نقصان پہنچانا ہے۔"
 
تل ابیب کے سیکورٹی پالیسی میکرز اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ غزہ میں حماس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ خود اسرائیل کے قیام سے پہلے صیہونی جتھے جیسے ہاگانا، لحی اور ایرگون چھاپہ مار کاروائیاں انجام دیتے رہے ہیں اور انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ زیر زمین گروہ کا خاتمہ ناممکن ہے۔ لہذا اب وہ حماس کو محدود کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں اور یہ کہ مکمل خاتمے کی بجائے حماس کو اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ اسرائیل کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔ لہذا اب وہ کوئی بھی ایسی جنگ بندی قبول نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں غزہ کی پٹی پر حماس کی حکومت دوبارہ برقرار ہو جائے اور اس کی طاقت بحال ہو جائے۔ اس کام کے لیے وہ خطے کے عرب حکمرانوں سے تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ صیہونی حکمران غزہ میں جاری عربی عبری ٹکراو کو عربی عربی ٹکراو میں تبدیل کرنے کی سازش بنا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: فلسطینی مجاہدین صیہونی فوجی رہے ہیں اور صیہونی فوج حکمت عملی چھاپہ مار ہوتے ہیں پر حملہ کا شکار کے خلاف کرنے کی حماس کے حماس کو اور اس کے لیے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • چیئرمین رویت ہلال کمیٹی کا پنجاب کاؤنٹر نارکوٹکس فورس ہیڈکوارٹر کا دورہ، منشیات کے خلاف مشترکہ اقدامات پر اتفاق
  • ایرانی حملے میں 10 شدید زخمی فوجیوں کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا، نیویارک ٹائمز
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • فیفا ورلڈکپ: ٹرمپ کی مداخلت پر فیصلہ تبدیل، ناروے کا فیفا کیخلاف بڑا اقدام اٹھانے کا فیصلہ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل