پی ٹی آئی میں اختلافات پھر کھلنے لگے؛ رکن اسمبلی کا سینئر رہنما پر ایک ارب ہر جانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات ایک بار پھر کھل کر سامنے آنے لگے۔ پارٹی کے سینئر رہنما نے دوسرے رہنما اور سابق وفاقی وزیر پر ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا۔
نجی ٹی وی کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اپنی ہی پارٹی کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کے خلاف ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کردیا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں دائر دعوے میں شیخ وقاص اکرم نے مؤقف اختیار کیا کہ فواد چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹی اور توہین آمیز بیان بازی کی ہے۔
دعوے کے مطابق درخواست گزار عزت دار شہری اور قومی اسمبلی میں عوام کا منتخب نمائندہ ہے۔ فواد چوہدری کی غلط بیان بازی سے عوام میں میری ساکھ متاثر ہوئی ہے۔
ایڈیشنل سیشن جج سہیل شیخ نے شیخ وقاص اکرم کے فواد چوہدری کے خلاف ہتک عزت کے دعوے پر سماعت کی اور کیس کی آئندہ سماعت پر ابتدائی دلائل طلب کرلیے۔
عدالت نے ہتک عزت کے دعوے پر مزید سماعت 12 جولائی تک ملتوی کردی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: فواد چوہدری
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔