ملک بھر میں بارشوں کے نئے سلسلے کاانتباہ‘ طغیانی کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (نمائندہ جسارت) محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف حصوں میں مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ شروع ہونے کی پیشگوئی کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا، کشمیر، گلگت بلتستان، پنجاب، اور بالائی علاقوں میں شدید بارشیں متوقع ہیں، جن سے طغیانی اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ خیبرپختونخوا کے اضلاع دیر، سوات، شانگلہ، مانسہرہ، کرم اور باجوڑ سمیت کئی علاقوں میں موسلادھار بارش کا امکان ہے، جب کہ پشاور، مالم جبہ اور کالام میں درجہ حرارت بھی کم رہنے کا امکان ہے۔ سندھ اور بلوچستان میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 11 سے 17 جولائی تک بارشوں کا یہ سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں اور سیاحوں کو ندی نالوں، دریاو?ں اور پہاڑی علاقوں سے دور رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔