جارحیت کے خلاف جواب صرف ٹریلر تھا، پوری طاقت باقی ہے،ایران
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
ویلاگ اسلام ٹائمز اردو کی پیشکش ہے، جس میں اہم خبروں سے متعلق مفید تبصرے پیش کئے جاتے ہیں۔ ہر ہفتے کے روز، مختصر و مفید ویلاگز، دیکھنے و سننے والوں کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔ سامعین سے گزارش ہے کہ یوٹیوب چینل سبسکرائب کریں اور اپنی مفید آراء سے مطلع فرمائیں۔ متعلقہ فائیلیں
Islam Times V Log 12-07-2025 اسلام ٹائمز وی لاگ
Resistance Strikes Back | Trump’s Threat, Iran’s Furys | Resistance Rising
جارحیت کے خلاف جواب صرف ٹریلر تھا، پوری طاقت باقی ہے،ایران
یمن کا بحری محاذ ، اسرائیل کی معیشت ہلا دی
"اسرائیل کو تسلیم؟ پاکستان میں زبردست مزاحمت
ہفتہ وار پروگرام : وی لاگ وی لاگر: سید عدنان زیدی پیش کش: سید انجم رضا
پروگرام کا خلاصہ:
اس وی لاگ میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے فلسطینی مزاحمتی گروہوں نے اسرائیل کے جدید ترین ٹینک کو تباہ کر کے "Layered Ambush" کی نئی مثال قائم کی
کیسے نیتن یاہو امریکی ایلچی کے ساتھ میٹنگ چھوڑ کر میدانِ جنگ کی وحشت سے دوچار ہو گیا
یمنی حملے جو اب صرف بحری جہازوں پر نہیں بلکہ اسرائیلی معیشت پر کاری ضرب بن چکے ہیں
شمالی کوریا کا دوٹوک اعلان — اگر ایران پر حملہ ہوا، تو ہم جنگ میں کودیں گے
پاکستان میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوششوں کے خلاف مذہبی جماعتوں اور عوام کا واضح انتباہ
یہ سب کچھ ایک نئے مزاحمتی ورلڈ آرڈر کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
دیکھیے مزاحمت کا نیا چہرہ، نئی اسٹریٹیجی، اور بدلتا عالمی منظرنامہ۔
کمنٹ سیکشن میں اپنی قیمتی آراء سے ضرور آگاہ کیا کریں آپ کی رائے ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے،جزاک اللہ
اسلام ٹائمز
#IsraelUnderAttack #Ga-za-Resistance #YemenStrikesBack #RedSeaBlockade #IranDefense #TrumpIranThreat #PakistanRejectsIsrael #NetanyahuCrisis #MiddleEastConflict #AxisOfResistance #ZionismExposed #PsychologicalWarfare #LayeredAmbush
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔