چوروں کی طرح داخل ہونے والے پناہ گزین نہیں دہشت گرد ہیں، خواجہ آصف کا افغان وفد کے بیان پر رد عمل
اشاعت کی تاریخ: 31st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے افغان وفد کے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے غیر سنجیدہ، مضحکہ خیز اور حقیقت کے منافی قرار دیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد دراصل افغان سرزمین پر موجود پاکستانی پناہ گزین ہیں جو اپنے گھروں کو واپس جا رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ آخر یہ کیسے پناہ گزین ہیں جو اپنے گھروں کو واپس جاتے وقت بھاری اور جدید اسلحے سے لیس ہیں؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ لوگ کسی باقاعدہ راستے یا سرحدی گیٹ سے نہیں بلکہ پہاڑوں اور وادیوں کے دشوار گزار راستوں سے چھپ کر پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کا مقصد امن نہیں بلکہ تخریب کاری ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ افغان وفد کی یہ تاویل دراصل ان کے غیر مخلص رویے اور بدنیتی کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف زمینی حقائق کو مسخ کرتے ہیں بلکہ دونوں ممالک کے تعلقات پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
خواجہ آصف نے یاد دلایا کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے ساتھ امن اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات کی خواہش رکھی، تاہم اگر کابل حکومت نے دشمنی یا تصادم کا راستہ اپنایا تو پاکستان اپنے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف کسی دہشت گرد کارروائی میں استعمال ہوئی تو اس کا سخت اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: خواجہ آصف
پڑھیں:
افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ
کراچی (سٹاف رپورٹر) جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں افغان شہریوں کے لیے مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔ ایف آئی اے نے مقدمے میں گرفتار چار ملزم انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر کو عدالت میں پیش کیا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات بنانے کی غرض سے سرکاری ریکارڈ میں رد و بدل کرتے تھے۔ عدالت نے ملزموںکو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کر دیا۔