اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں اہم پیشرفت، پولیس نے موبائل فونز اور لیپ ٹاپ سے ڈیٹا حصل کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں فلیٹ سے مردہ حالت میں ملنے والی اداکارہ حمیرا اصغر کے کیس میں پولیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حمیرا اصغر کی پرسرار موت کا معاملہ عدالت جا پہنچا، شہری نے قتل کا شبہ ظاہرکردیا
پولیس نے اداکارہ کے زیرِ استعمال الیکٹرانک گیجٹس جن میں تین موبائل فونز، ایک ٹیبلٹ اور ایک لیپ ٹاپ شامل ہیں، کو کھول کر ان سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا تجزیہ شروع کر دیا ہے۔
پولیس کے مطابق ان تمام ڈیوائسز کے پاسورڈز اداکارہ کی ذاتی ڈائری میں تحریر تھے، جن کی مدد سے گیجٹس کو کھولا گیا۔
پولیس حکام نے بتایا کہ کیس سے متعلق 2 افراد کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 2 افراد کو تفتیش کے لیے طلب کیا گیا ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق اداکارہ جِم جاتی تھیں اور بیوٹیشن سے بھی ان کا باقاعدہ رابطہ تھا۔ پولیس نے کہا ہے کہ تفتیش کو آگے بڑھانے کے لیے اداکارہ کے جِم ٹرینر سمیت دیگر متعلقہ افراد سے بھی معاونت لی جائے گی۔
مزید برآں پولیس اداکارہ کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات کا بھی جائزہ لے رہی ہے، جبکہ ان کے چند قریبی روابط کی نوعیت جانچنے کے لیے رابطہ ریکارڈ کی بھی چھان بین کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہمیں ان کے گھر کا پتا معلوم نہ تھا، رابطہ نہ ہوسکا، حمیرا اصغر کے چچا کا بیان
یاد رہے کہ حمیرا اصغر کی میت کو کراچی سے لاہور منتقل کرکے سپردِ خاک کردیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews پاکستانی اداکارہ پولیس تحقیقات تفتیش جاری حمیرا اصغر ڈیٹا حاصل لاہور میں سپرد خاک لیپ ٹاپ موبائل فونز وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستانی اداکارہ پولیس تحقیقات تفتیش جاری ڈیٹا حاصل لاہور میں سپرد خاک لیپ ٹاپ موبائل فونز وی نیوز کے لیے
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز